منگل , 04 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 21 April,2026

خواجہ شمس الدین دہاری رحمتہ اللہ علیہ

جنہیں لوگ اجنی کہتے تھے۔ ایک بوڑھے عزیز تھے نورانی۔ اگرچہ ابتدائے حال میں آپ دنیا کی طرف مشغول تھے اور اہل دنیا سے میل جول رکھتے تھے لیکن جب سعادت ابدی کا ستارہ اوج اقبال پر چمکا تو آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کے سلک میں داخل ہوئے اور حضور کی مجلس  اقدس میں نشست و برخاست کرنے کا مرتبہ پایا سلطان المشائخ کے ملفوظات سے آپ نے ایک عجیب و غریب کتاب مرتب  کی ایک دفعہ ان بزرگوار نے سلطان المشائخ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر ارشاد ہو تو آنے جانے والوں کے لیے ایک مکان تیار  کروں فرمایا کہ خواجہ شمس الدین! یہ کام ان مشاغل سے کسی طرح کم نہیں ہے جن سے تم باہر آئے ہوئے ہو۔ ازاں بعد سلطان المشائخ نے آپ کو وہ دوات عنایت کی جو آپ کی حضور میں رکھی ہوئی تھی اور اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ جو آپ کو آخر عمر میں پیش آیا یعنی لوگوں نے پھر انہیں دنیاوی اعمال میں مشغول کیا اور ظفر آباد کی جاگیر ان کے ح۔۔۔

مزید

مولانا شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ

سوختہ محبت ساختہ مودت خواجہ شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ امیر حسن شاعر کے بھانجے تھے جو جناب سلطان المشائخ کے اعلیٰ درجہ کے مریدوں میں شمار کئے جاتے اور آپ کی محبت کے ساتھ عام و خاص میں بے نظیر شہرت رکھتے تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے سنا ہے کہ جس وقت یہ عاشق صادق حضرت سلطان المشائخ کے جماعت خانہ میں نماز کے لیے حاضر ہوئے تو نماز کی تحریمہ باندھتے وقت جب تک سلطان المشائخ کے جمال مبارک کو نہ دیکھتے تحریمہ باندھتے یعنی جماعت کی صف سے اپنا سر مبارک باہر نکالتے اور سلطان المشائخ کا روے جہان آرا دیکھ کر نیت باندھتے امیر خسرو نے کیا خوب کہا ہے۔ در اثنائے نماز اے جان نظر بر قامتت دارم مگر ار قامت خوبت قبول افتد نماز من (جانمن اثنائے نماز میں میں اپنی نظر تیرے قد پر جمائے رکھتا ہوں کہ شاید تیرے  خوبصورت قد سے میری نماز قبولیت کا جامہ پہنے۔) خلاصہ کلام یہ کہ جب عاشق۔۔۔

مزید

مولانا قوام الدین یکدانہ اودھی رحمتہ اللہ علیہ

کی روش اور چال چلن بالکل سلف کی روش جیسی تھی ان بزرگ کے حق میں سلطان المشائخ نے فرمایا کہ وہ نیک مرد اور سعادت اندوز ہے۔ آپ نے مولانا شمس الدین یحییٰ کی خدمت میں اکشاف کی قراءت کی تھی اور انتہا درجہ کی مشغولی اور کمال مرتبہ کی ترک تجرید میں مشغول تھے کبھی کوئی وقت آپ پر ایسا نہیں گزرا کہ اس میں آپ کے پاس کوئی غلام اور ہاتھ بٹانے والا آدمی ہو اور آپ کی خدمت کرے لیکن آخر وقت میں ایک لونڈی آپ کو دستیاب ہوگئی جس سے دو اولادیں پیدا ہوئیں اگرچہ یہ لونڈی اپنے آقا کے گھر کا تمام کام کاج کرتی تھی لیکن مولانا قوم الدین اپنے حصہ کا آٹا اپنے ہاتھ سے پیستے۔ غرضکہ اس قسم کا مجاہدہ و ریاضت جو مولانا موصوف کو حاصل تھی دوسرے کو کم  میسر  ہوتی۔ رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔

مزید

مولانا برہان الدین ساوی رحمتہ اللہ علیہ

کثرت علم اور نہایت ورع و تقوی کے ساتھ آراستہ تھے با وجود یکہ  آپ علمی تبحر میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے لیکن کبھی قلم فتویٰ ہاتھ میں نہیں لیا گو آپ سب سے آخر سلطان المشائخ کی خدمت میں پہنچے لیکن حضور کی سعادت بخش نظروں کی برکت سے جملہ اوصاف میں یاران اعلیٰ میں موصوف ہوگئے تھے اور طریقہ سلف پر سماع کا اتباع کرتے تھے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ

ابن عمر و بن احوص۔ہمیں عبداللہ بن احمد خطیب نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں طراد بن محمد زینبی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں بلالی حفارنےحسین بن یحییٰ بن عباس سے انھوں نے حسن بن محمد بن صباح سے انھوں نے عبیدہ بن حمیدسے انھوں نے یزید بن ابی زیاد سے انھوں نے سلیمان بن عمرو بن احوص سے انھوں نے اپنی والدہ سے روایت کرکے خبردی کہ ہو کہتی تھیں میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرہ العقبہ کے پاس سواری پردیکھا آپ فرمارہے تھے کہ اے لوگو جو شخص حجرہ کو کنکر یاں مارے تو اسے چاہیے کہ خذف کی کنکریوں سے مارے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں کنکریاں دیکھیں پھر آپ نے کنکریاں ماریں اور سب لوگوں نے ماریں پھرآپ لوٹ گئے اس کے بعد ایک عورت اپنے لڑکے کو لے کر آئی اس لڑکے کو کچھ بیماری تھی پھراس عورت نے کہاکہ اے نبی اللہ میرا بیٹایہ ہے پس اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمرو ابن بجزہ رضی اللہ عنہ

ابن عمرو بن بجزہ بن خلف بن صداد بن عبداللہ بن قرطہ بن عدی بن کعب قرشی عدوی۔فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ہم ان کی کوئی روایت نہیں جانتے۔ ان کا تذکرہ  موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ان لوگوں میں کیاہے جو خاندان بنی عدی بن کعب سے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور ابومعشر نےکہا ہے کہ ان کا خاندان یمن میں ہے ان کے گھرانے کو بجرہ بن عبداللہ بن قرط نے قتینی بتایاتھا۔۔۔۔

مزید

شیخ فیض بخش لاہوری قدس سرہ

  آپ لاہور کے صاحبِ حال اور صاحب وجد صوفیا میں سے تھے آپ سیّد حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور وہ شیر شاہ لاہوری کے خلیفہ تھے آپ ریشم کے کپڑے بنا کر گزر اوقات کرتے تھے اور ہر سال میں آپ سترہ عرس سالانہ کیا کرتے تھےجن میں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، عاشورہ مبارک، عرس حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ ، عرس حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ، عرس حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ  اور عرس حضرت خواجہ علی احمد صابر رحمۃ اللہ علیہ ،منایا کرتے تھے۔ ان عرسوں پر بڑا پیسہ خرچ کرتے اور سماع کی مجالس قائم کرتے تھے  آپ کے مریدوں میں آپ کی کرامات بڑی مشہور ہیں ہم اس مختصر سی کتاب میں وہ کرامات نہیں لکھ سکتے ہر رات تین بار غسل کرتے اور اللہ کی عبادت میں ساری رات گزار دیتے دنیا کی لذیذ سے چیزوں سے پرہیز کرتے بعض اوقات ح۔۔۔

مزید

شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین کے حالات

شیخ علی الاطلاق قطب باتفاق، اسرر کے سر چشمہ، انوار کے مطلع، دنیا جہان کی شمع، بنی آدم کے بادشاہ نامدار شیخ الاسلام قطب الحق والدین بختیار اوشی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں۔ آپ جناب شیخ الاسلام معین الدین حسن سنجری کے مشہور اور نامور خلیفہ اور اکابر اولیاء کے سرتاج۔ اجلہ اصفیا کے مقتدا ہیں تمام اولیاء وقت اور اصفیاء عصر آپ کے معتقد و فرما نبردار تھے اور نہایت وقعت و قبول کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ’’ولِی معَ اللہ‘‘ کے شغل کے ساتھ موصوف اور ترک و تجرید کے ساتھ مخصوص تھے۔ آپ رجب المرجب کے مہینے ۵۲۲ ہجری میں شہر بغداد امام ابو اللیث سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ کے مسجد میں شیخ شہاب الدین سہروردی اور شیخ اوحد کرمانی اور شیخ برہان الدین چشتی اور شیخ محمد صفاہانی کے سامنے شیخ الاسلام شیخ معین الدین سنجری کی بیعت کے شرف سے ممتاز ہوئے اور آپ  کے اعتقاد و ارادت کا حلقہ اطاعت کے کان می۔۔۔

مزید

شیخ شیوخ العالم فرید الدین حالات

عارفوں کے سلطان عاشقوں اور محقیقں کے تاج، اصحاب دین کے پیشوا، ارباب یقین کے مقتدا، عالمِ گمنامی و عزلت کے گوشہ نشین سِرّ دوست کے مخزن، اقلیم اعظم کے سردار اقطاب عالم کے قطب یعنی شیوخ العالم شیخ فرید الدین شکر بار مسعود گنج شکر اجودھنی چشتی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں جو فقر اور مساکین کے پناہ اور سلمان کے فرزند رشید ہیں اور جوابدی سعادت اور سرمدی دولت سے مالا مال ہیں۔ شیخ فرید الدین قدس سرہ اتقا و پرہیز گاری ورع و زہد، ترک دنیا تجرید عشق کا شوق اور کلام محبت کے اشارات و رموز میں بے نظیر زمانہ اور اپنے عہد  و دولت مہد میں یگانہ تھے۔ میدانِ کرامت اور عالم دین کے سرداروں سے سبقت لے گئے تھے اور اپنی بے مثل شہرت میں مستثنیٰ اور ممتاز تھے۔ آپ شیخ الاسلام قطب الدین بختیار اوشی کے معزز خلیفہ تھے اور ان کے باجاہ و جلال اور عظمت و بزرگی کے دربار سے عام اور مطلق اجازت رکھتے تھے آپ ایسے عالی ہمت اور ۔۔۔

مزید

شیخ حمید الدین سوالی رحمتہ اللہ علیہ کے حالات

شاہ اہل تصوف مجرد ز آفت تکلف عالم باعمل عابد بے کسل تہجد گزار صائم الدہر والی حضرت متعالی شیخ الاسلام حمید الملتہ والدین سوالی انبیاء و مرسلین کے وارث ابو احمد سعید صوفی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں۔ یہ بزرگ شیخ الاسلام معین الدین حسن سنجری کے ممتاز خلیفہ اورشیخ الاسلام قطب الدین بختیار  اوشی قدس اللہ سرہ العزیز کے ہم خرقہ ہیں۔ آپ حضرت خطۂ ناگور کے باشندے تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ جب یہ بزرگ شیخ معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے اور  توبہ نصوح کی دولت سے مالا مال ہوئے تو لوگوں نے جبراً و قہراً آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ آپ اس بیعت کو فسخ  کردیں اور برسرِ  انکار ہوجائیں لیکن شیخ حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا اور صاف جواب دیا کہ جاؤ بیٹھو۔ میں نے اپنا ازار بند ایسا مضبوط و مستحکم باندھا ہے کہ کل بہشت کی حوروں کے سامنے بھی نہیں کھولوں گا سلط۔۔۔

مزید