بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

علامہ ضیاءالدین قادری رحمتہ اللہ علیہ

۔۔۔

مزید

خواجہ موئد الدین انصاری رحمتہ اللہ علیہ

زہد و تقوی کی مجسم تصویر، عاشق درگاہ مولی، واقف رمز و مصلحت خواجہ  موئد الملۃ والدین انصاری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جنہوں نے با ختیار خود مصلحت اور دنیاوی امور سے دست برداری کی اور محبت پیر کے ساتھ موافقت برتی۔ اللہ اللہ آپ عجیب و غیرب روش رکھتے تھے جس روز سے سلطان کے غلاموں کی سلک میں داخل ہوئے مرتے دم تک کسی چیز کی طرف مشغول نہیں ہوئے اور کسی شخص کی طرف توجہ نہیں کی لیکن سادات کرام یعنی کاتب حروف کے چچاؤں کے ساتھ جو سلطان المشائخ کی قربت کے ساتھ مخصوص تھے بالخصوص جناب سید حسین رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ غایت درجہ  کا التفات رکھتے تھے اور ان کی محبت کی طرف منسوب تھے آپ کو ذوق سماع اور جگر سوز کر یہ بہت لاحق رہتا تھا اور اس بارہ میں خصوصیت کے ساتھ یاران اعلی میں مشہور و معروف تھے اور یہ سب کچھ اس بات کا نتیجہ تھا کہ آپ حضرت سلطان المشائخ کی نظر خاص کےے ساتھ ملحوظ تھے اور حضور کے لباس خاص ۔۔۔

مزید

سید المرسلین قطب الحق رحمتہ اللہ علیہ

سید با صفا جگر گوشۂ مصطفے حسن و ملاحت کی کان لطافت و ظرافت کے سر چشمے دریاے پیغمبری کے چمکدار موتی قصر حیدری کے شب چراغ گوہر سید السادات نبیرہ سید المرسلین قطب الحق والدین حسین ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے منجھلے چچا تھے یہ بزرگ علم و فضل و ایثار ظاہر و باطن کی طہارت اور لطافت طبع میں بے نظیر زمانہ تھے اور عقل کامل فراست وافر رکھتے تھے جب تک زندہ رہے مجردانہ زندگی بسر کی اور متعلقین و نیز تزویج کے تعلق سے مبرار ہے آپ نے سلطان المشائخ کے خلیفہ مولانا فخر الدین زرادی کی خدمت میں علوم دینی کی تحصیل کی اور ہمیشہ مکان کا دروازہ کھلا رکھا جو شخص چاہتا بلا تامل آپ کے مکان میں چلا آتا اور غریب الوطنوں اور حاجتمندوں اور شہر کے باشندوں کو آمد و رفت کرنے سے کوئی مانع و مزاحم نہ ہوتا کیونکہ آپ کے مکان پر کوئی چوبدار اور دربان مقرر نہ تھا حتی کہ لوگ اس مقام تک بڑی جرأت و دلیری سے چلے جاتے ت۔۔۔

مزید

مولانا شمس الدین محمد بن یحییٰ رحمتہ اللہ علیہ

دریاے علم و زہادت کے چمکدار موتی اہل محبت و کرامت کے مقتدا ہیں۔ یہ ضعیف کہتا ہے۔ دریایٔ علم و گنج زھادت باتفاق اعنی کہ شمس ملت و دین در علوم طاق مولانا شمس الدین یحییٰ کا سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز کی خدمت میں حاضر ہونا اور مرید ہونا منقول ہے کہ مولانا  شمس الدین اور مولانا صدر الدین ناولی دونوں خالہ زاد  بھائی تھے اور  تعلیم پانے کے زمانہ میں تعطیل کے دنوں میں کپڑے دھونے کے واسطے غیاث پور کے حوالی میں دریائے جون کے کنارے آیا کرتے تھے اس زمانہ میں سلطان المشائخ کی عظمت و کرامت کا آوازہ ان کے مبارک کان میں پہنچ گیا تھا کہ علما اور شہر کے امرا سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوکر زمین بوسی کیا کرتے اور اس دریا کی خاک بوسی کو سعادت و نیک بختی جانتے ہیں چونکہ یہ دونوں بزرگ ابتدائی زمانہ میں اہل تصوف کے چنداں معتقد  نہ تھے اس لیے سلطان المشائخ کی ملاقات کا زیادہ خیال ۔۔۔

مزید

مولانا فخر الدین زرادی رحمتہ اللہ علیہ

عالم ربانی عاشق سبحانی مولانا فخر الملۃ والدین زرّادی قدس اللہ سرہ العزیز کثرتِ علم لطافتِ طبع شدت مجاہدہ ذوق مشاہدہ کے ساتھ مشہور اور انتہا درجہ کی ترک و تجرید اور کثرتِ گریہ میں اعلیٰ درجہ کے عزیزوں میں معروف تھے۔ آپ سلطان المشائخ کے نہایت اولولغرم اور ممتاز خلیفوں کی فہرست میں مندرج تھے۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔ یہ بزرگوار عشق کے مجسم تصویر اور محبت الٰہی کے پورے فوٹو تھے۔ جو شخص آپ کی نصیبہ در پیشانی کو  دیکھتا یقیناً معلوم کرلیتا کہ یہ بزرگ و اصلان درگاہ حق تعالیٰ میں سے ہیں۔   مولانا فخر الدین زرادی کے جناب سلطان المشائخ نظام الحق والدّین کی خدمت میں ارادت لانے کا بیان شیخ نصیر الدین محمود رحمۃ اللہ علیہ سے سنا گیا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جس زمانہ میں میں شہر میں تعلیم پاتا تھا۔ مولانا فخر الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہدایہ پڑھتے تھے اور ساری مجلس میں ان دونوں شاگردوں سے ۔۔۔

مزید

مولانا علاؤ الدین نیلی رحمۃ اللہ علیہ

ذات پسندیدہ تمام عزیزوں اور یاروں میں جیسے نور دیدہ عالم علوم سبحانی حافظ کلام ربانی بادشاہ عالم باز، علماء میں تقریر خوب کے ساتھ ممتاز مولانا علاؤ الدین نیلی رحمۃ اللہ علیہ سلطان المشائخ کے معزز خلیفہ تھے۔ آپ ایسے مقرر و فصیح تھے کہ بڑے بڑے  زبر دست علماء آپ  کی تقریر کے شیدائی تھے اور جب آپ کلام کرتے تھے تو  تقریر کا جادو تمام حاضرین کو خود بخود اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ آپ اعلیٰ درجہ کے یاروں میں اعلیٰ سخن اور علم سلوک میں سب سے زیادہ ممتاز و نامور شمار کیے جاتے تھے اور کشاف و مفتاح کے غوامض بیان کرنے میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔ مولانا فرید الدین شافعی جو اودھ کے شیخ الاسلام تھے اور مروجہ علوم میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے ان کی مجلس میں آپ کشاف کی قرأت کرتے تھے اور مولانا شمس الدین یحییٰ اور علماء اودھ سامع  تھے۔  کاتب حروف نے ان بزرگ کو دیکھا ہے ظاہر میں علماء۔۔۔

مزید

مولانا برہان الدین رحمتہ اللہ علیہ

علم و عشق جہانِ صدق زہدو ورع تقوی و طہارت میں معروف، کثرت گریہ  کے ساتھ اعلیٰ یاروں میں موصوف و مشہور مولانا برہان الملۃ والدین غریب رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ ایک عزیز کہتا ہے۔ غریب ست این بحب حق بدنیا حبیب اللہ فی الدنیا غریب (یہ محبّ حق دنیا میں غریب ہے اور حبیب دنیا میں غریب ہوا کرتا ہے۔)   محبت و اعتقاد جو مولانا برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ سلطان المشائخ سے رکھتے تھے کاتب حروف عرض کرتا ہے کہ جو اعتقاد و محبت مولانا برہان الدین کو سلطان المشائخ سے تھا۔ عجب اعتقاد تھا کہ مرتے دم تک اپنی پشت مبارک غیاث پور کی طرف کبھی نہیں کی۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو بڑے بڑے عزیزوں میں سے کسی کو میسر نہیں ہوئی۔ آپ اعتقاد و محبت کی فہرست میں تمام یاروں سے ممتاز اور سب کے مقتدا مانے جاتے تھے اور بہت سے اعلیٰ درجہ کے یاروں سے ارادت میں سابق تھے۔ محبت و عشق کے گھائلوں اور زخمیوں کے لیے زود اثر مرہم تھ۔۔۔

مزید

مولانا وجیہہ الدین یوسف رحمتہ اللہ علیہ

صورتِ صفا، سیرت وفا، سابقین کی شمع، صادقوں کی صبح صاحب یقین، مقتدائے دین، مولانا وجیہہ الملۃ والدین یوسف کلا کہری عرف چندیری سلطان المشائخ کے سابقین خلفاء میں ایک نہایت بلند مرتبہ خلیفہ اور اپنے زمانہ کے عابد و زاہد اور کمال درجہ عاشق تھے۔ آپ میں درد و ذوق بہت تھا اور سلطان المشائخ کی خدمت میں بیحد اعتقاد و محبت رکھتے تھے اور ایک پیر عزیز تھے۔ مکارم اخلاق میں بے نظیر ایک مقتدر بادشاہ تھے سلوک و لایت میں عدیم المثال۔ آپ کے مناقب و کرامات اس کثرت سے ہیں کہ قلم انہیں ضبط تحریر میں لانے سے محض عاجز و قاصر ہے۔ مولانا برہان الدین غریب رحمۃ اللہ علیہ مولانا یوسف ہی کے ذریعہ سے سلطان المشائخ کی خدمت میں پہنچے ہیں جس طرح مولانا یوسف مولانا عمر کلا  کہری کے وسیلہ سے خدمت اقدس میں پہنچے۔ کاتب حروف کرتا ہے کہ چونکہ مولانا یوسف ارادت و اجازت کی رو سے تمام اعلی درجہ کے یاروں میں سابق و مقدم ہیں۔ اس۔۔۔

مزید

مولانا شہاب الدین رحمتہ اللہ علیہ

کان ذوق مایۂ شوق زاہد با کمال عابد با جمال مولانا شہاب الملۃ والدین حضرت سلطان المشائخ کے امام ہیں۔ یہ بزرگوار بڑے پایہ کے شخص تھے اس سے زیادہ اور کون سی کرامت و عظمت ہوسکتی ہے کہ سلطان المشائخ کی امامت کے شرف سے مشرف ہوئے اور دن رات میں پانچ  وقت ایسے جلیل  القدر  بادشاہ کی سعادت بخش نظر کے منظور و ملحوظ ہوتے تھے جس کی نظر جان بخش کے محتاج تمام بادشاہانِ جہان تھے۔ جب مولانا شہاب الدین علیہ الرحمۃ سلطان المشائخ کی دولتِ ارادت سے مشرف ہوئے تو  حضور کا فرمان جاری ہوا کہ خواجہ نوح کو تعلیم و تربیت دینا شروع کریں (خواجہ  نوح کا ذکر سلطان المشائخ کے اقربا میں مذکور ہے) ایک چھوٹا سا حجرہ جماعت خانہ میں تھا آپ کے حوالہ  کیا گیا اور آپ جناب سلطان المشائخ کے یاروں اور خدمت گاروں میں پرورش پانے لگے۔ برسوں سے آپ کے دل میں یہ آرزو تھی کہ اگر کسی طرح ایک دفعہ سلطان المشائخ۔۔۔

مزید

مولانا فصیح الدین رحمتہ اللہ علیہ

مولانا فصیح الدین عالم علوم دینی صاحب اسرار یقینی کمال علم و فضل اور ورع و تقویٰ سے آراستہ تھے آپ اکثر یاران اعلی سے ارادت و بیعت میں سابق و اول تھے اور سلطان المشائخ کی علمی مجلس میں اکثر سوالات علمی اور عالم حقیقت کے رموزات کا استکشاف کیا کرتے تھے اور  شافی جوابوں کے ساتھ مشرف ہوا کرتے تھے متعلمی کے زمانہ میں مولانا فصیح الدین اور مولانا قاضی محی الدین کا شانی دونوں ایک دوسرے کے بہت ساتھ رہے ہیں اور مولانا شمس الدین قوشچہ کی مجلس میں اعلیٰ طبقہ کے طلبا میں علم اصول فقہ کی تحقیق میں شاغل و مصروف رہ کر علماء کے جرگہ میں وفور علم اور ذکائے طبع میں مشہور و معروف تھے۔ جب فضل ربانی اور جذب رحمانی نے مولانا فصیح الدین کے دل میں ایک فوری جوش پیدا کیا تو آپ نے راہ حقیقت کو طے کرنا شروع کیا اور اس راہ میں نہایت کوشش کے ساتھ گام زن ہوئے اور علم کو عمل کے ساتھ مقرون کرنے کی خواہش دل میں پیدا ہو۔۔۔

مزید