بن معرض یمامی: ابو عبد اللہ ان کی کنیت تھی۔ شاصویہ بن عبید نے معرض بن عبد اللہ بن معیقیب بن معرض یمامی ابو عبد اللہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے دادا سے سنا وہ کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں موجود تھا۔ اتفاقاً ایک مکان میں داخل ہوا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے۔ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ایسا دکھائی دیا جیسے چاند۔ یہ ابن مندہ کا قول ہے۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ معیقیب بن معرض الیمامی جسے بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے شاصویہ بن عبید کی حدیث میں ذکر کیا ہے۔ سرا سروہم ہے۔ کیونکہ وہ شخص معرض بن معیقیب ہے، نہ کہ معیقیب بن معرض۔ ابو نعیم نے معرض بن معیقیب کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے۔ اس لیے حقیقتِ حال کے جاننے کےلیے اس مقام کا مطالعہ کیا جائے۔ عبد الوہاب بن ہبتہ اللہ نے ابو غالب بن بناء سے انہوں نے ابو محمد جوہری سے انہوں نے ابو بکر بن مالک سے انہوں نے محمد بن یون۔۔۔
مزید
مولی ابی احمد بن جمش: یہ بریرہ کے خاوند تھے۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے۔ ابو عمر کہتے ہیں کہ وہ بنو مطیع کے مولی تھے۔ عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہ انہوں نے بریرہ کو ایک انصاری سے خریدا۔ بروایتے وہ بنو مغیرہ بن مخزوم کا مولی تھا اور ابو احمد اسدی اسد بن خزیمہ سے تھا۔ اور بنو مطع، قریش کے عدی قبیلے سے تھے۔ جب حضرت عائشہ نے بریرہ کو خریدا تو مغیث اس کے خاوند تھے جو آزاد تھے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ غلام تھے۔ یحییٰ محمود بن اصفہانی اور ابو یاسر بن ابی حبہ نے باسناد ہما تا مسلم بن حجاج، محمد بن علاء ہمدانی سے، انہوں نے ابو اسامہ سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ وہ بریرہ سے مِلنے گئیں توا نہوں نے حضرت عائشہ سے گزارش کی کہ میرے اہلِ خانہ مجھے آزاد کرنے پر تیار ہیں۔ بشرطیکہ مَیں ا۔۔۔
مزید
الغنوی: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور ان سے ابو ہریرہ کے ساتھ اونٹنی کے دودھ دوہنے کے بارے میں ایک حدیث منقول ہے۔ ابو عمر نے مختصراً اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم مغیث اور بعض لوگوں نے معتب تحریر کیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مہمات کے سلسلے میں انہیں روانہ فرمایا تھا۔ ان کی حدیث کو محمد بن یزید بن براء الغنوی نے ان کے والد سے انہوں نے دادا سے انہوں نے حارث بن عبید سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کیا۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن اخنس بن شریق الثقفی۔ ہم ان کا نسب ان کے باپ کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں۔ بنو زہرہ کے حلیف تھے اور یوم الدار کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوگئے تھے۔ اس موقعہ پر انہیں زبر دست ابتلا پیش آیا اور وہ خوب جی توڑ کر لڑے۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے کو باغیوں نے آگ لگادی تو انہوں نے ذیل کے اشعار کہے: لَمَّا تَھَدَّمَتِ الاَ بوَابُ وَاخْتَرَقت یَمَّمْتَ مُنْھُنَّ بَاباً غَیْرَ مُحْترَقَ ترجمہ: جب دروازے گِر پڑے اور جل گئے، تو مَیں ان میں سے ان جلے دروازے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ حَقّاً اَقْوُلُ وَعَبْدَ اللہِ امْرہٗ اِنْ لَمْ تُقَاتِلُ لَدَیَ عُثْمَانَ فَانْطَلَقِ ترجمہ: مَیں سچ کہتا ہوں عبد اللہ کو مَیں نے حکم دیا۔ کہ اگر تم عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے نہیں لڑسکتے تو چلے جاؤ۔ وَاللہِ اَثرُ کَہٗ مَادَامَ بِیْ دَمَقٌ حَتٰی تَزَایَل بَیْن۔۔۔
مزید
بن شعبہ بن ابی عامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن سعد بن عوف بن قیس: ان کا تعلق بنو ثقیف سے تھا اور ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ ایک روایت میں ابو عیسیٰ بھی آئی ہے۔ ان کی والدہ امامہ بنتِ افقم بن عمرو تھیں۔ جو بنو نصر میں معاویہ سے تھیں۔ مغیرہ غزوۂ خندق کے موقع پر ایمان لائے تھے اور صلح حدیبیہ میں موجود تھے۔ اس موقعہ پر انہوں نے عروہ بن مسعود سے مذاکرے میں حصّہ لیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابو عیسیٰ کی کنیت عطا کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو عبد اللہ کہنا شروع کر دیا تھا۔ جناب مغیرہ اپنی عقل رسا کی وجہ سے مشہور تھے۔ شعبی کہتے ہیں، عرب کے دانشور چار تھے۔ ۱۔ معاویہ بن ابو سفیان ۲۔ عمرو بن عاص ۳۔ مغیرہ بن شعبہ ۴۔ زیاد: اول الذّکر وسیع الظرفی اور حکم کی وجہ سے، عمرو بن عاص حل مشکلات کی بنا پر، مغیرہ بن شعبہ عقلِ رسا اور جودتِ فکر ک۔۔۔
مزید
بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم قرشی ہاشمی۔ مکے میں قبل از ہجرت پیدا ہوئے اور ایک روایت میں ہے کہ اُنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے صرف چھ برس نصیب ہُوئے۔ ان کی کنیت ابو یحییٰ تھی اور ام یحییٰ کا نام امامہ بنت ابو العاص تھا اور جناب امامہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں۔ امامہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بعد از وفاتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا شادی کی تھی۔جب حضرت علی ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو وصیت کی کہ ان کے بعد مغیرہ بن نوفل امامہ سے نکاح کر لیں۔ بروایتے ان کی کنیت ابو حلیمہ تھی۔ یہ وہی شخص ہیں، جنہوں نے ابنِ ملجم پر کھیس ڈالا تھا۔ جب اس نے حضرت علی کو زخمی کردیا تھا۔ جب لوگوں نے ابنِ ملجم کو پکڑنے کی کوشش کی، تو وہ ان پر تلوار سے حملہ آور ہوا، لوگ آگے سے ہٹ گئے۔ اب مغیرہ سے آمنا سامنا تھا۔ انہوں نے کھیس اس پر ڈال کر اسے زمین پر ۔۔۔
مزید
بریرہ کے خاوند تھے۔ جعفر المستغفری نے ان کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے محمد بن عجلان سے انہوں نے یحییٰ بن عروہ بن زبیر سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ بریرہ کی وجہ سے ہمیں تین سنتوں کا علم ہُوا۔ ۱۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (بریرہ)کے بارے میں فرمایا تھا۔ کہ ولاء اس کی ہوگی جو کسی کو آزاد کرے گا۔ بریرہ کا خاوند غلام تھا، جن کا نام مقسم تھا۔ جب وہ آزاد کردی گئیں تو حضرت عائشہ نے ان (بریرہ) سے کہا۔ ۲۔ ’’کیا تجھے علم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے بارے میں فرمایا تھا کہ آزادی کے بعد تُو اس وقت تک اپنے نفس (اختیار) کی مالک ہوگی۔ جب تک تو کسی سے بیا ہی نہ جائے ۔ میری خواہش یہی ہے، کہ تو اب اس قصّے کو جانے ہی دے۔‘‘ بریرہ نے جواب دیا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ ۳۔ حضور نے فرمایا، صدقہ وہی بہتر ہوتا ہے جو مناسب جگہ پر صرف کیا جائے۔ اس حدیث میں بریرہ کے خ۔۔۔
مزید
آپ ام المومنین ام سلمہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کا قول ہے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے۔ ان سے بکیر نے جو عمرہ کے مولی ہیں۔ جو یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر مخزومی کے دادا تھے۔ روایت کی۔ مہاجر کا شمار مصریوں میں ہوتا تھا۔ بکیر سے مروی ہے کہ انہوں نے مہاجر کو کہتے سنا، وہ کہتے تھے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانچ یا دس برس گزارے، اس عرصے میں انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کچھ نہیں کہا۔ خواہ وہ کام جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ مَیں نے کیا ہو، یا نہ کیا ہو، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر کہتے ہیں مَیں نہیں کہہ سکتا۔ آیا یہ وہی آدمی ہیں، جنہوں نے یہ بتایا تھا کہ حضور اکرم کے نعلین مبارک میں دوتسمے تھے۔۔۔۔
مزید
بن حارثہ: ابوموسیٰ انھیں اسماء بن حارثہ کا بھائی بتاتا ہےا ور ان کا تذکرہ، اسماء کے تذکرے کے ضمن میں بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن الحارث: حماد بن زید نے ایوب سے اُس نے ابوقلابہ سے اس نے مالک بن الحارث سے روایت کی کہ ہم چھ آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہاں ۲۰ دین قیام کیا، آپ بڑے رحم دل تھے، فرمایا جب تم اپنے اپنے علاقوں کو واپس جاؤ تو اپنے لوگوں کو پڑھاؤ اور انھیں ادائے نماز کا مقررہ اوقات پر حکم دو، اس صحابی کے والد کا نام الحویرث ہے چنانچہ ہم اسے بعد میں بیان کریں گے، لیکن ابوموسیٰ نے اس کی تخریج اسی مقام پر کی ہے۔ ان کا صحیح نام الحویرث ہے۔ ۔۔۔
مزید