بن صواب الجہنی دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور فتحِ مصر میں شریک رہے تھے اور ان چار آدمیوں میں شامل تھے جنہوں نے قبلۂ مصر کی سمت درست کی تھی ان سے یزید بن حبیب عبد المالک بن رائطہ اور عبد العزیز بن ملیل نے روایت کی تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو زہیر نمیری: ان سے شریح بن عبید نے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن بخار خزرجی و بخاری انصاری: غزوۂ بدر میں موجود تھے، لیکن جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے لیے کوچ فرمانا تھا۔ اس صبح کو فوت ہوگئے۔ حضور نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا، جو فی الحقیقت شریکِ جنگ ہوئے تھے۔ یہ لاولد تھے۔ ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسی نے ان کا نام ح اور ز سے لکھا ہے۔ دارِ قطنی کا خیال بھی یہی ہے۔ ابن ماکو لا نے ’’محرر‘‘ لکھا ہے۔ اور ان کو بنو عمرو بن عوف کے خاندان سے شمار کیا ہے، لیکن یہ غلط ہے۔ کیونکہ ابو جعفر نے یونس سے، اس نے ابنِ اسحاق سے، ان لوگوں کے نام کے سلسلے میں جو غزوہ بدر میں موجود تھے انصار سے بنو عدی بن نجار نے محرز بن عامر بن مالک کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سلمہ نے ابن اسحاق اور عبد الملک بن ہشام سے، اس نے بکائی سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے اور اسی طرح موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
یہ غیر منسوب ہیں۔ ابراہیم بن محمد بن ثاقب جو بنو عبد الدار کا بھائی ہے۔ اس نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی ہے کہ ایک رات کو محرز میرے پاس آیا۔ ہم نے اسے رات کے کھانے کی دعوت دی۔ محرز پوچھنے لگا۔ کیا اس وقت کوئی اور بھی تمہارے ساتھ ہے۔ مَیں نے پوچھا تمہیں اس وقت کسی اور کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے۔ اس نے کہا۔ کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زندگی بھر معمول رہا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کا نام یزید بن قیس بن ربیعہ بن عبد اللہ بن یعمر الشداخ بن عوف بن کعب بن عامر بن یسث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانۃ الکنانی اللیثی ہے۔ ان کے بھائی کا نام صعب تھا۔ ہمیں عبد اللہ نے یونس سے اس نے ابن اسحاق سے، اس نے یزید بن عبد اللہ بن قسیط سے اس نے قعقاع بن عبد اللہ بن ابی حد رد سے اس نے اپنے باپ سے بیان کیا، کہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چشمۂ اضم کی طرف روانہ فرمایا۔ میرے ساتھ ابو قتادہ اور محکم بن جثامہ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ جب ہم وادی میں داخل ہوئے تو ہمارے پاس سے شتر سوار عامر بن اخبط الاشجعی گزرا اور ہمیں مسلمانوں کی طرح السلام علیکم کہا۔ ہم تو رُک گئے، لیکن محلم بن جثامہ نے اسے قتل کر کے اس کے اونٹ اور سازو سامان پر قبضہ کرلیا۔ کیونکہ اِن میں پہلے سے عدوات چلی آرہی تھی۔ واپسی پر ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا۔ تو قرآن ۔۔۔
مزید
ان کا نام یزید بن قیس بن ربیعہ بن عبد اللہ بن یعمر الشداخ بن عوف بن کعب بن عامر بن یسث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانۃ الکنانی اللیثی ہے۔ ان کے بھائی کا نام صعب تھا۔ ہمیں عبد اللہ نے یونس سے اس نے ابن اسحاق سے، اس نے یزید بن عبد اللہ بن قسیط سے اس نے قعقاع بن عبد اللہ بن ابی حد رد سے اس نے اپنے باپ سے بیان کیا، کہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چشمۂ اضم کی طرف روانہ فرمایا۔ میرے ساتھ ابو قتادہ اور محکم بن جثامہ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ جب ہم وادی میں داخل ہوئے تو ہمارے پاس سے شتر سوار عامر بن اخبط الاشجعی گزرا اور ہمیں مسلمانوں کی طرح السلام علیکم کہا۔ ہم تو رُک گئے، لیکن محلم بن جثامہ نے اسے قتل کر کے اس کے اونٹ اور سازو سامان پر قبضہ کرلیا۔ کیونکہ اِن میں پہلے سے عدوات چلی آرہی تھی۔ واپسی پر ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا۔ تو قرآن ۔۔۔
مزید
بن عبید بن ایاس البلوی: انصار کے حلیف تھے یوم الرجیع میں بہ مقام مرالظہران شہید ہوئے تھے۔ عبد اللہ بن طارق کے اخیانی بھائی تھے۔ واقدی اور ابن اسحاق نے اِن کا نام مغیث بن عبیدہ تحریر کیا ہے جو بنو ظفر کے حلیف تھے۔ ان کا ذکر معتب کے ترجمے میں گزر چکا ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن سلمان الخزاعی: ابن شاہین نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ انہوں نے باسنادہ حماد بن سلمہ سے انہوں نے حمید سے انہوں نے مغیرہ بن سلمان خزاعی سے روایت کی کہ دو آدمی ایک چیز کا جھگڑا طے کرانے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور نے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا، آیا تم تقسیم پر آمادہ ہو۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ابی فاطمہ دوسی: یہ سعید بن عاص بن امیّہ کے حلیف تھے۔ بقول موسی بن عقبہ یہ سعید بن عاص کے آزاد کردہ غلام تھے۔ قدیم الاسلام تھے اور مکے سے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے۔ بعد میں مدینہ چلے گئے۔ عبید اللہ نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ از بنو امیّہ ان کے خلفا اور معیقیب بن ابی فاطمہ سے روایت کی ہے، کہ یہ صاحب سعید بن عاص کی آل سے تھے اور ان کی اولاد تھی۔ معیقیب حبشہ سے ان لوگوں کے ساتھ آئے تھے جو دو کشتیوں میں سوار ہوکر مدینے پہنچے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں خیبر میں تھے۔ ابن مندہ کے مطابق وہ بدر میں شریک تھے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہران کے پاس ہوتی تھی۔ حضرت عمر نے انہیں بیعت المال کا خازن مقرر کیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد یہ جذام میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اور پھر اطبا کے علاج سے تندرست ہوگئے تھے۔ یہ وہی صاحب ہیں۔ جن کے ہاتھ سے حضرت عثمان ک۔۔۔
مزید