ابن قنیع بن اسبان بن ثعلبہ بن ربیعہ۔ان کا نام عبدعمروتھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔ورید بن صمہ کے قاتل یہی ہیں غسانی نے ابن ہشام سے اس کو نقل کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن قمامہ سلمی۔وقاص بن قمامہ کے بھائی ہیں ان دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تحریر لکھ دی تھی۔ابن مندہ نے ان کا تذکرہ اسی طرح لکھاہے اورابوعمراورابونعیم نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ ان کا نام عبداللہ بن قدامہ ہے ۔ان کا تذکرہ اوپرہوچکاہے۔۔۔۔
مزید
ابن قریط زیادی۔حضرت خالد بن ولید کے ہمراہ بنی حارث بن کعب کے وفد میں آئے تھے یہ سب لوگ اسلام لائے یہ واقعہ ۱۰ھ کاہے ان کا تذکرہ ابوعمرنے اسی طرح لکھا ہے ابن اسحاق سے سلمہ اور یونس نے دریافت کی ہے کہ ان کے والد کا نام قریط تھا اور عبدالملک بن ہشام نے بکائی سے انھوں نے ابن اسحق سے قداذ روایت کیا ہے قداذ کا نام اوپر آچکا ہے یہ دونوں ایک ہیں واللہ اعلم۔۔۔۔
مزید
ابن قرہ بن نہیک ہلالی۔انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعاتھی میں نے ابوعبداللہ بن مندہ کی کتاب کے بعض نسخوں میں ایساہی دیکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن قرہ۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے اور انھوں نے خطیب ابوبکر سے نقل کیا ہے اوربعض لوگوں نے ان کا نام عبداللہ بن قرظ بیان کیا ہے اورروایت ہے کہ ان نام شیطان تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کانام عبداللہ رکھا۔ان کا تذکرہ عبداللہ بن قرظ کے میں ہوچکاہے۔۔۔۔
مزید
ابن قرط ازدی شمالی۔زمانہ جاہلیت میں ان کا نام شیطان تھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا یہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن دونوں صحابی ہیں۔یرموک میں اور فتح دمشق میں شریک تھے یزید بن ابی سفیان نے ان کے ہاتھ اپناخط حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجاتھا۔ ان کا تذکرہ عبداللہ بن محمد بن ربیعہ نے اپنی کتاب فتوح الشام میں کیا ہے۔ابوعبیدہ نے ان کو دومرتبہ حمص کا حاکم بنایا اور یہ حمص کے حاکم رہے یہاں تک کہ حضرت ابوعبیدہ کی وفات ہوگئی بعد اس کے حضرت معاویہ نے بھی ان کو حمص کاحاکم مقرر کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں اور ان سے عصیف بن حارث اورعمروبن محصن اورسلیم بن عامر جنائری وغیرہم نے روایت کی ہے ہمیں یحییٰ بن محمد بن سعد نے اپنی سند سے ابوبکربن ابی عاصم سے روایت کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن مثنی نے یحییٰ بن قطان سے انھوں نے ثور بن یزید سے۔۔۔
مزید
ابن قدامہ سعدی۔وقاص بن قدامہ کے بھائی ہیں ان کے والد کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ قدامہ کہتے ہیں بعض لوگ کچھ اور کہتے ہیں۔ ان کا تذکرہ عبداللہ بن سعدی کے نام میں جوخاندان بنی عامر بن لوے سے ہیں گذرچکا ہے کنیت ان کی ابومحمد ہے ان دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تحریر لکھدی تھی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے فرق یہ ہے کہ ابوعمر نے ان کو خاندان عامر سے قرار دیا ہے اور ابن مندہ اورابونعیم نے ان کو سلمی قراردیا ہے اور ابن مندہ نے ان کے والد کا نام بجائے قدامہ کے قمامہ بیان کیا ہے۔ہم ان کاتذکرہ اپنے مقام پر کریں گے۔یہ دونوں ایک ہیں واللہ اعلم۔۔۔۔
مزید
ابن قارب کنیت ابووہب ثقفی اوربعض لوگ ان کو ابن مارب کہتے ہیں ان سے ان کے بیٹے وہب نے روایت کی ہے کہ یہ کہتے تھے میں اپنے والد کے ہمراہ تھا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہاتھ اٹھا کا دعا مانگ رہے تھے کہ اللہ پاک سر منڈوانے والوں پر رحم کرے پس ایک شخص نے کہا کہ یارسول اللہ بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجیے پس آپ نے دوسری یا تیسری مرتبہ بال کتروانے والوں کےلیے بھی دعا کی ان کے بارے میں جواختلاف ہے وہ ان کے والد قارب کے نام میں انشاء اللہ تعالیٰ ذکرکیے جائیں گےان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عویم بن ساعدہ انصاری۔ ان کا نسب ان کے والد کے نام میں ذکر کیاجائے گا ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔ان کے نام میں اختلاف ہے۔محمد بن عبادہ نےعبدالرحمٰن بن سالم بن عبداللہ بن عویم بن ساعدہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ عزوجل نے مجھے اپنی تمام مخلوق سے منتخب کیا اور میرے لیے اصحاب منتخب کیے ان میں سے میرے وزیر و انصار بنائے پس جو شخص میرے اصحاب کو براکہے اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام آدمیوں کی لعنت ہے۔اس حدیث کو جماعت محدثین نے محمد بن طلحہ سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن سالم بن عبدالرحمٰن بن عویم بن ساعدہ سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کیاہے اور یہی صحیح ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نےلکھاہے۔۔۔۔
مزید