ابن عمرعیسیٰ۔صحابی ہیں یہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے اہل بصرہ کی لڑائی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مخالفت کی تھی ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصراًلکھا ہے۔۔۔۔
مزید
یہ معبدبن قیس بن ضخر کے بھائی ہیں۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے ان کے بھائی معبد کے تذکرے میں ضمناً لکھ دیاہے۔ان کے بھائی معبد غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے۔۔۔۔
مزید
ابن معاویہ غاضری۔ان کا شمار اہل شام میں ہے انھوں نے حمص میں سکونت اختیارکرلی تھی بعض لوگوں نے کہاہے کہ یہ اس غاضرہ کے خاندان سے ہیں جو قبیلہ ٔ قیس کی ایک شاخ ہے ان سے جبیر بن نضیر نے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ تین چیزیں (ایسی)ہیں کہ جس کسی نے ان تینوں کوکیااس نے ایمان کا مزہ پالیا(اول یہ کہ)اس نے فقط اللہ کی عبادت کی اس لیے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرامعبود نہیں اور(دوسری بات) یہ کہ اس نے بطبیب خاطر اپنے مال کی زکوٰۃ کواداکیا جوکہ ہرسال اس پرواجب ہواکرتی ہے۔زکوٰۃ میں نہ اس نے بوڑھے جانوروں کودیا اور نہ اس کوکہ جس میں کوئی داغ وغیرہ ہو۔اورنہ موٹے تازے دیے(تم لوگ اپنے متوسط اور درمیانی قسم کے مالوں سے زکوٰۃ دیاکرو)اس لیے کہ اللہ عزوجل نے تم سے (زکوٰۃ میں)سب سے بہتر چیزطلب نہیں کی اور نہ تم لوگوں کو سب سے بری چیزدینے کا حکم دیاہےاور(تیسری بات)یہ کہ اس نے اپنے نفس ۔۔۔
مزید
ابن مظفر۔ابوموسیٰ نےکہاہے کہ میں نے ایساہی ان (کے نسب)کوابوالحسن یعنی محمد بن قاسم فارسی کی کتاب موسوم بہ الاسباب الجالبہ للرزق میں پایا۔اسی کتاب میں ابوالحسن نے اپنی سند کے ساتھ احمد بن علی بن مثنی سے انھوں نے ابوربیع سے انھوں نے سلام بن سلیم سے انھوں نے معاذ بن قرّہ سے انھوں نے عبداللہ بن مظفرسے روایت کرکے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن )فرمایاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ (اپنے بندوں کو مخاطب کرکے)فرماتاہے کہ اے ابن آدم میری عبادت کے لیے تم(ہرکام سے فارغ ہوجاؤ توہم تمھارے قلب کوغنا سے اور تمھارے دونوں ہاتھوں کو رزق سےبھردیں گے۔اے ابن آدم ہم سے دورنہ ہو ورنہ ہم تمہارے ۱؎ ہم وہی ہیں جو کہ واقعۂ حرہ کے دن بھاگ گئے تھے:اور(حرہ یعنی)گرمی (سال بھر میں)ایک ہی دفعہ جاتی ہے:کیااچھی وہ بہادری اورلڑائی ہے جوکہ بعد فرار کے ہو:پس آج ہم اپنی (اس) بہادری کواس فرار کا ع۔۔۔
مزید
ابن مظعون بن حبیب بن حذافہ بن جمحی قریشی جمحی۔ان کی کنیت ابومحمد ہے۔یہ اوران کے بھائی عثمان بن مظعون ملک حبش میں ہجرت کرکے چلے گئے تھے اور یہ اور ان کے بھائی غزوۂ بدر میں شریک تھے واقدی نے لکھاہے کہ ان کی وفات ۳۰ھ میں ہوئی اس وقت ان کی عمرساٹھ سال کی تھی ان سب بھائیوں میں سے سواقد امہ بن مظعون کے اور کسی سے کوئی حدیث مروی نہیں ہے مظعون کے لڑکے عبداللہ بن عمروبن خطاب رضی اللہ عنہم کے ماموں تھے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن مطیع بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب قریشی عدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیداہوئے تھے حضرت نے ان کی تحنیک۱؎ کی تھی جب اہل مدینہ نے زمانہ یزید بن معاویہ میں بنی امیہ کو مدینہ سے نکال دیا اوریزید کی بیعت توڑدی تو یہ عبداللہ بن مطیع قریش کے سردارتھےجب واقعہ حرہ میں اہل شام کواہل مدینہ پرفتح حاصل ہوئی تو یہ عبداللہ بن مطیع بھاگ کر مکہ میں عبداللہ بن زبیرسے جاملے اوران کے ساتھ محاصرہ میں شریک تھے جبکہ ان لوگوں ۱؎حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کامعمول تھا جب کسی کے یہا ں بچہ پیداہوتاتھا تو اس کو حضورنبوی میں لے جاتے آپ اس بچہ کو گود میں لیتے دعادیتے اورکھجورچباکر اپنے دہن مبارک سے اس کے منہ میں ڈال دیتے اسی کو تحنیک کہتے ہیں۔ کااہل شام نے واقعہ حرہ میں محاصرہ کرلیاتھااور یہ عبداللہ بن مطیع انھیں کے پاس رہے یہاں تک حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن۔۔۔
مزید
ابن مسیب۔عسکری نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔ابن جریج نے محمدبن عباد بن جعفر سے انھوں نے ابوسلمہ بن سفیان اور عبداللہ بن مسیب اورعبداللہ بن عمروسے روایت کی ہے یہ لوگ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مکہ میں ہمیں فجرکی نماز پڑھائی آ پ نے نماز میں سورۂ مومنون پڑھنا شروع کی یہاں تک کہ جب حضرت موسیٰ و ہارون و عیسیٰ علیہم السلام کا ذکر آیا تویکایک آپ کوکھانسی آنے لگی پس آپ نے سجدہ کردیا انھوں نے اس حدیث کواسی طرح روایت کیا ہے یہ سندان تینوں سے ثابت ہے اور یہ تینوں اس حدیث کو عبداللہ بن سائب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک بن ابی قین۔خزرجی۔کعب بن مالک کے بھائی ہیں ان سے ان کے بھتیجے عبداللہ نے روایت کی ہے مگر ان کی روایت معلوم نہیں۔ان کی اور روایت بھی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک غافقی۔کنیت ان کی ابوموسیٰ ہے بعض لوگ ان کو مالک بن عبداللہ کہتے ہیں ۔مصری ہیں۔ ابن وہب نے ابن ربیعہ سے انھوں نے عبداللہ بن سلیمان سے انھوں نے ثعلبہ بن ابی کنود سے انھوں نے عبداللہ بن مالک غافقی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حضرت عمر سے فرماتےتھے کہ جب مجھے نہانے کی ضرورت ہوتی ہے تو میں وضو کرکے کھاپی لیتاہوں مگرنماز نہیں پڑھتا اورقرآن نہیں پڑھتا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن مالک بن بحینہ ۔بحینہ ان کی والدہ کا نام ہےاورمالک ان کے والد ہیں۔مالک بیٹے ہیں قشب ازدی کے۔قبیلۂ ازد شنواوسےبنی مطلب بن عبدمناف کے حلیف تھے۔مقام بطن ریم میں جومدینہ کے اطراف میں ہے رہتے تھے۔کنیت ان کی ابو محمد ہے بعض لوگوں کابیان ہے کہ بحینہ ان کی دادی کا نام ہےمگرابوعمرنے کہاہے کہ پہلاقول صحیح ہے۔ ان سے ان کے بیٹے علی نے اور عطاء بن یسار نے اور اعرج نے اورمحمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان وغیرہم نے روایک کی ہے۔ہمیں اسمعیل بن عیل وغیرہ نے اپنی سند سے ابوعیسی (ترمذی) تک خبردی کہ وہ کہتے تھے ہم سے قتیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے لیث نے ابن شہاب سے انھوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے انھوں نے عبداللہ بن بحینہ ازدی سے جو بنی مطلب کے حلیف تھے نقل کرکے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ظہر کی نماز میں قعدہ بھو ل کر اٹھ کھڑے ہوئے پھرجب آپ نے نمازپوری کرلی توقبل سلام کے بیٹھے بیٹھے (سہوکے)د۔۔۔
مزید