بن معیقیب یمامی: شاصویہ بن عبید ابو محمد یمامی نے ان سے حدیث روایت کی ہے، شاصویہ نے معرض بن عبد اللہ بن معرض بن معیقیب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی ہے کہ وہ حجتہ الوداع میں شامل تھے۔ مکہ میں ایک مکان میں داخل ہوئے۔ وہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ اور آپ کا چہرہ مبارک چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اس سے عجیب تر جو چیز مشاہدہ کی وہ یہ تھی کہ اہلِ یمامہ کا ایک آدمی ایک بچے کو کپڑے میں لپیٹے ہوئے لایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے دریافت کیا۔ کیا تم[۱] جانتے ہو کہ مَیں کون ہوں۔ بچّے نے کہا، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور نے فرمایا، تو نے درست کہا۔ اللہ تجھے برکت دے اس کے بعد وہ بچہ جوانی تک خاموش رہا۔ لوگ اسے مبارک الیمامہ کہتے تھے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [۱۔ حدیث اس بے مخدوش ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے سے پوچھنے کی کیا ضرورت۔۔۔
مزید
بن یزید: ان کی کنیت ابو یزید تھی۔ اہل کوفہ سے تھے۔ انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا۔ حضرت عثمان کے عہد میں آذر بائیجان میں مارے گئے تھے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سیّدنا معقل رضی اللہ عنہ بن سنان بن مظہر بن عرکی بن فتیان بن سبیع بن بکر بن اشجع بن ریث بن غطفان الاشجعی: ان کی کنیت ابو عبد الرحمان ہے۔ بعض روایات میں ابو زید ابو سمنان اور ابو محمد بھی آئی ہے۔ فتح مکہ میں موجود تھے۔ مدینہ آ گئے اور پھر یہیں رہ گئے۔ فاضل اور متقی آدمی تھے۔ انہوں ہی نے بروع بنت واشق کی حدیث بیان کی۔ اسماعیل اور ابراہیم وغیرہ نے باسناد ہما محمد بن عیسی سے انہوں نے محمود بن غیلان سے انہوں نے زید بن حباب سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے ابن مسعود سے روایت کی، کہ ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کہ ایک ایسے آدمی سے کتنا مہر وصول کیا جائے گا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہر بھی مقرر نہ کیا۔ اور اس سے زنا شوئی تعلقات بھی قائم نہ کیے اور وہ مرگیا۔ ابن مسعود نے فتوی دیا کہ اس پر مہر مثل کی ادائیگی فرض ہوگی۔جس میں کوئی کم۔۔۔
مزید
بن مقرن المزنی: ہم ان کا سلسلۂ نسب ان کے بھائی سوید کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ لوگ سات بھائی تھے اور سب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ عرب میں اور کسی کو یہ فخر حاصل نہیں ہُوا۔ واقدی اور ابن نمیر کا یہی قول ہے، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر نے واقدی اور ابن نمیر سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ نیز ابو عمر نے یہ بھی بیان کیا ہے۔ کہ بنو حارثہ بن ہند اسلمی آٹھ بھائی تھے۔ جو سب کے سب مسلمان ہوگئے تھے۔ اور سب بیعتِ رضوان میں موجود تھے۔ اس کا ذکر ہند بن حارثہ کے ترجمے میں آیا ہے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
غیر منسوب ہیں۔ اسماعیل بن جعفر نے محمد بن عمرو سے انہوں نے ابو سلمہ سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کی رات بھی ایسا ہی ہوا تھا) مقام حجر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا، اے حجر تو خدا کی زمین میں محبوب ترین اور معزز ترین مقام ہے اور اگر مجھے یہاں سے نہ نکالا گیا۔ تو مَیں کبھی نہ نکلوں گا اور آج صرف اس وقت کے لیے مجھے اجازت عطا ہوئی ہے۔ اس کے بعد تا ابد اس زمین سے درخت اکھیڑنا۔ گھوڑوں کو روکنا۔ گری پڑی چیزوں کو سوائے اصل مالک کے اُٹھانا حرام ہے۔ ایک مینا نامی آدمی نے گزارش کی۔ یا رسول اللہ اذخر گھاس کو مستثنیٰ فرما دیجیے، کہ اسے ہم چھتوں پر ڈالتے ہیں اور قبروں میں بھی کام آتا ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ابو الحسن لبنانی مینا کو اسی طرح لکھتے۔ ایک اور روایت کے مطابق اس کے راوی عباس بن عبد المطلب ہیں۔ نیز اس حدیث میں شاہ یا ابو شاہ کا ذکر بھی آیا ہے جو ت۔۔۔
مزید
ان کے بیٹے کا نام الحکم تھا اور ہ عنہ وہ ابو عامر راہب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ بقول مصعب زبیری جناب مینا غزوۂ تبوک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان کے بیٹے الحکم نے ابنِ عمر اور ابو ہریرہ سے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن ابی مسبقہ باہلی۔ان کی حدیث شبل بن نعیم باہلی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں حجتہ الوداع میں رسول خدا صلی اللہ علی وسلم کے پاس گیا میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اونٹ پر سوار ہیں آپ کی پنڈلیاں رکاب میں ایسی معلوم ہوتی تھیں کہ گویا چھوہارے کے درخت کا گابھا میں آپ کے پیروں سے لپٹ گیا(اتفاقاً) آپ کے ہاتھ سے میرے کوڑا لگ گیا میں نے کہا یارسول اللہ قصاص ملنا چاہیے پس آپ نے اپنا کوڑا مجھے دے دیا (کہ لوتم بھی مجھے مارلو) پس میں نے آپ کی پنڈلی اورآپ کے پیروں کو چوم لیا بعض لوگ ان کو عباللہ بن ابی سقیہ کہتے ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مزین۔زید بن مزین کے بھائی ہیں۔ابن عقبہ نے ان کا ذکران لوگوں میں کیا ہے جوخاندان بنی حارث بن خزرج سے بدرمیں شریک تھا اور ابن اسحاق نے زید کو ان لوگوں میں ذکرکیا ہے جو بدر میں شریک تھے اور ابوعمرنے عبداللہ کوان کے بھائی زیدکے تذکرہ میں ضمناً بیان کردیا ہے۔۔۔۔
مزید
مزنی۔ان کا نسب نہیں بیان کیا گیا بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کے والد کا نام مغفل تھا۔ان کی حدیث ابومعمر نے عبدالوارث سے انھوں نے حسین معلم سے انھوں نے ابن بریدہ سے انھوں نے عبداللہ مزنی سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہیں ایسانہ ہو کہ بدوی لوگ تمھاری نماز کے نام غلط کردیں۔ان کا تذکرہ تینوں نےلکھا ہے۔یہ عبداللہ مغفل کے بیٹے ہیں اس میں کچھ شبہ نہیں اور یہ حدیث بھی انھیں کی ہے واللہ اعلم۔۔۔۔
مزید
ابن مرقع اوربعض لوگ ان کو عبدالرحمٰن کہتے ہیں۔ ان سے ابویزید مدنی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرکو جب فتح کیا اس وقت آپ کے ساتھ ایک ہزار آٹھ سوآدمی تھے پس آپ نے مال غنیمت کے ایک ہزار آٹھ سو حصہ کردیے پس سب لوگوں نے میووں کو کھایا تو بخار میں مبتلا ہوگئے لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ مغرب اور عشاء کے درمیان اپنے اوپرپانی ڈالیں۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید