حضرت علامہ مولانا حکیم عزیز غوث بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: آپ علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی حکیم عزیزغوث بریلوی بن شاہ فضل غوث بریلوی بن شاہ آل احمد اچھے میاں ہے۔(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم) آپ کا سلسلہ ٔ نسب چند واسطوں سے امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ تحصیلِ علم : آپ نے تمام مروجہ علوم اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں رہ کر حاصل کئے۔حکیم عزیز غوث صاحب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے خاص تلامذہ میں سے تھے۔ بیعت وخلافت: تحصیلِ علم کے ساتھ ساتھ آپ نے اعلیٰ حضرت سے ہی بیعت کی اور خلافت واجازت بھی عطا فرمائی۔ سیرت وخصائص:حضرت مولانا حکیم عزیز غوث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ جامع کمالات ظاہری وباطنی، متقی، متورع اور جوادو سخی تھے۔آپ نے اپنے استادِ محترم اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت کو اپنایا۔ جس طرح آپ کے ش۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ محمد عمر وارثی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا ہدایت رسول رام پوری کے صاحبزادے، عالم و فاضل، حافظ وقاری ادیب وشاعر و واعظ، لکھنؤ میں مذہب اہل سنت کےروشن مینار تھے، اور آپ کے دم سے لکھنؤ میں سُنّیت کی روشنی قائم تھی، آپنے پریس واخبار کی طاقت کا اندازہ کرتےہوئےمؤقر ماہنامہ سُنی جاری فرمایا، کاتب سطور کے والد ماجد اور پیر و مرشد فضیلت مآب، امین شریعت بُرہان الاصفیاء مولانا شاہ الحاج رفاقت حسین صاحب قبلہ مدظلہ اس کے سر پرست تھے راقم سطور تعطیل کلاں کی رخصت کے بعد رام پور جاتےہوئے لکھنؤ رک کر ملاقات کےلیےآپ دولت کدہ آریہ نگر پہونچا تو معلوم ہوا کہ ابھی حضرت موصوف کو سپرد خاک کرنے کے لیے قبرستان لےجایا گیا ہے، خدا کی آپ پر بےشمار رحمتیں ہوں، آپکےدل میں دین کا بڑا درد تھا، دامے درمے، قدمے، سخنے دین کی خدمت فرماتے تھے، 11-اپریل 1962ء 6ذی قعدہ 1381ھ کو وصال ہوا۔۔۔۔
مزید
سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ القرشی: طبرانی نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازۃً حسن بن احمد سے، انہوں نے احمد بن عبد اللہ سے (ابو موسیٰ کہتے ہیں) انہوں نے ابو طالب کوشیدی سے، انہوں نے ابوبکر بن ربذہ سے۔ ان دونوں نے سلیمان بن احمد سے انہوں نے اسحاق بن ابراہیم دہری سے، انہوں نے عبد الرزاق سے انہوں نے اسرائیلی یعنی ابن یونس سے، انہوں نے سماک بن حرب سے انہوں نے معبد القرشی سے روایت کی: کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قدید میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا۔ آیا آج تم نے کچھ کھایا ہے؟ اس نے عرض کیا۔ کھایا تو کچھ نہیں، لیکن پانی ضرور پیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج یوم عشورہ ہے۔ اس لیے اب کچھ نہ کھانا اور باقی وقت کے لیے روزہ رکھ لینا اسی طرح تمہارے آگے پیچھے جو لوگ ہیں، انہیں بھی کہنا کہ وہ روزہ رکھ لیں۔ ابو نعیم۔۔۔
مزید
: طبرانی نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازۃً حسن بن احمد سے، انہوں نے احمد بن عبد اللہ سے (ابو موسیٰ کہتے ہیں) انہوں نے ابو طالب کوشیدی سے، انہوں نے ابوبکر بن ربذہ سے۔ ان دونوں نے سلیمان بن احمد سے انہوں نے اسحاق بن ابراہیم دہری سے، انہوں نے عبد الرزاق سے انہوں نے اسرائیلی یعنی ابن یونس سے، انہوں نے سماک بن حرب سے انہوں نے معبد القرشی سے روایت کی: کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قدید میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ نے اس سے دریافت فرمایا۔ آیا آج تم نے کچھ کھایا ہے؟ اس نے عرض کیا۔ کھایا تو کچھ نہیں، لیکن پانی ضرور پیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آج یوم عشورہ ہے۔ اس لیے اب کچھ نہ کھانا اور باقی وقت کے لیے روزہ رکھ لینا اسی طرح تمہارے آگے پیچھے جو لوگ ہیں، انہیں بھی کہنا کہ وہ روزہ رکھ لیں۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا۔۔۔
مزید
حضرت شاہ قیام الحق قدس سرہٗ کے بیٹے، مولانا معشوق علی جون پوری المتوفی ۱۲؍رمضان ۱۲۶۸ھ اور مولانا محمد شکور مچھلی شہری المتوفی ۲۱؍ذی الحجہ ۱۳۰۰ھ سے اخذ علوم کیا، فراغت کے بعد آخر عمر تک درس کا شغل جاری رکھا، طلبہ کےخوردو نوش کا انتظام اپنے پاس سے کرتےتھے۔ اپنےوالد ماجد کے مرید تھے اور اجازت وخلافت بھی انہیں سے رکھتے تھے، والد کی وفات ۹؍محرم ۱۲۶۵ھ کے بعد خانقاہ رشیدیہ جون پور کے سجادہ نشین ہوئے، حج وزیارت کے لیے جب مکہ معظمہ حاضر ہوئے تو حضرت شاہ امدامد اللہ مکی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت وخلافت حاصل کی،۔۔۔۔۔ آپ میں توکل، استغناء، غیرت، شفقت اور مروت بہت تھی، غرباء ومساکین کی آپ کے یہاں بہت قدر ومنزلت تھی۔۔۔۔۔ میانہ قد، آفتابی چہرہ، کشاں پیشانی، دوہرایدن، گورا چٹارنگ تھا، کہ لوگوں کو سامنے ج انے یا بات کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی ۶؍ذی الحجہ۱۳۰۷ھ کو جان جاں آفریں کے سپرد کی، مزار ۔۔۔
مزید
بن قیس بن صخر اور ایک روایت میں معبد بن وہب بن قیس صخر آیا ہے۔ ایک روایت میں معبد بن قیس بن صیفی بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمۃ انصاری السلمی: یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: معبد بن قیس بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ۔ ان کے بھائی کا نام عبد اللہ تھا۔ اس روایت کے رو سے معبد غزوۂ احد میں بھی شریک تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔
مزید
: ۔ وہی بات کہی تھی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعد از فتح مکہ آنے والوں سے فرمایا کرتے تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ : ۔ ابو عثمان نہدی نے مجاشع سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعد از فتح مکہ اپنے بھائی معبد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ مَیں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ میں اپنے بڑے بھائی معبد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کرانے لایا ہوں فرمایا۔ ہجرت تو فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ کس امر پر آپ سے بیعت ہوسکتی ہے۔ فرمایا، ایمان، اسلام اور جہاد پر۔ میں نے معبد سے اس کا ذکر کیا وہ مجاشع سے عمر میں بڑے تھے۔ کہنے لگے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح فرمایا ہے۔ مجاشع سے ایک اور بات مروی ہے کہ وہ اپنے بھائی مجالد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے بھائی ابی معبد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا۔۔۔
مزید
بن حمراء: ان کا سلسلۂ نسب یوں ہے: معتب بن عوف بن عامر بن فضل بن عفیف بن کلیب بن حبشیہ بن سلول بن کعب بن عمر و الخزاعی السلولی: بنو مخزوم کے حلیف تھے اور عرف ابن الحمراء تھا۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے، (بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ از حلفائے۔ بنو مخزوم) انہوں نے معتب بن عوف بن عامر بن عامر بن فضل بن عفیف سے (اور یہ وہ آدمی ہے جسے عیہامہ بن کلیب بن سلول بن کعب از بنو خزاعہ کہا جاتا ہے) اسی اسناد سے از ابن اسحاق مروی ہے کہ یہ بنو مخزوم بن نقط و معتب بن عدف بن عامر سے تھے جو بنو خزاعہ سے ان کے حلیف تھے، ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے رسول اکرم رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے کو ہجرت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور ثعلبہ بن حاطب الانصاری کے درمیان مواخات قائم کردی تھی۔ انہوں نے ۵۷ ہجری میں وفات پائی۔ ایک روایت میں ان کی عمر اس وقت ۷۸ برس تھی۔ طبری کی ۔۔۔
مزید
بن عبید بن ایاس البلوی: یہ انصار کے بنو ظفر کے حلیف تھے۔ ابن اسحاق اور ابن عقبہ نے انہیں غزوۂ بدر کے شرکاء میں شامل کیا ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قشیر: ایک روایت میں معتب بن بشیر بن ملیل بن زید بن عطاف بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی آیا ہے۔ بیعت عقبہ میں اور بدر اور اُحد میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ انصار کے بنو ضبیعہ بن زید اور معتب بن فلاں بن ملیل غزوہ بدر میں موجود تھے۔ یہ لاولد تھے۔ یونس کی روایت میں اسی طرح ہے۔ اس نے ان کے والد کا نام نہیں لکھا۔ بکائی اور سلمہ نے ابن اسحاق سے روایت کی اور ان کے والد کا نام قشیر لکھا ہے۔ اسی اسناد سے ابن اسحاق سے روایت ہے کہ ان سے یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر نے اپنے والد سے اُنہوں نے اپنے دادا سے اُنہوں نے زبیر سے روایت کی۔ بخدا مَیں نے ایسا محسوس کیا۔ گویا مجھ پر نیند نے غلبہ پالیا ہے۔ مَیں خواب دیکھ رہا ہوں۔ اور معتب بن قشیر کو یہ کہتے سن رہا ہوں: ’’لَوْکَانَ لَنَا مِنَ اللہِ شیْیٌ مَا ۔۔۔
مزید