جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

سیّدناعبدالرحمٰن بن بشیر رضی اللہ عنہ

  ۔بعض نے ابن بشر بیان کیا ہے انھوں نے حضرت علی  رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ایک حدیث رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔اورشعبی وابن سیرین و عبدالملک بن عمیر نے ان سے روایت کی ہے سری بن اسمٰعیل نے عامر شعبی سے انھوں نے عبدالرحمٰن ابن بشیر سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ہم لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھےحضرت نے فرمایا کہ ایک شخص تم سے حکم قرآنی کی روسے لڑے گا جس طرح میں نے تم سے تنزیل قرآن کے موافق جہاد کیا۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھاوہ شخص میں ہوں آپ نے فرمایانہیں۔عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ شخص میں ہوں فرمایانہیں بلکہ یہ جوتاسینے والا اس وقت حضرت علی رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کا جوتاسی رہے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے ابونعیم نے بیان کیا ہے کہ میں ان کو ابن ابی سبرد سمجھتاہوں بعض کابیان ہے کہ یہ انصاری ہیں مگرابوعمر نے ان کوابن بشیرلکھا ہے اور ا۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن ہذیل رضی اللہ عنہ

   بن ورقاخزاعی ہیں ان کا نسب پہلے بیان ہوچکا ہے۔ابن کلبی نے کہاہے کہ یہ اور ان کے ۱؎یہ مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی مقام پر مقتول ہوجائے اور قاتل کا پتہ نہ چلے تواہل محلہ سے قسم لی جائے گی اگروہ قسم کھالیں کہ ہم نے قتل نہیں کیا نہ ہم قاتل کوجانتے ہیں توپھران سے خون بہا مقتول کا دلوایاجائے۱۲۔ بھائی عبداللہ اہل یمن کی طرف رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر گئے تھےجنگ صفین میں حضرت علی  رضی اللہ عنہ کے ساتھ دونوں موجود تھے۔ابوعمر نے ان کا تذکرہ لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن ابن بجیدبن وہب رضی اللہ عنہ

   بن قنیطی بن قیس بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن مجدعتہ انصاری یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ابن ابی داؤد نے اسی طرح بیان کیاہے مگراورلوگ کہتے ہیں کہ یہ صحابی نہیں ہیں۔محمد بن اسحاق نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت کی ہے کہ عبدالرحمٰن بن بجید انصاری نے جوبنی حارثہ کے بھائی تھے ان سے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن سہل کو خیبر میں(کسی نامعلوم شخص نے)قتل کرڈالا توان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور محیصہ بن مسعود رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس استغاثہ کرنے کے واسطے حاضرہوئے۔عبدالرحمٰن بن سہل نے جو صغیرسن تھے گفتگو شروع کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑا شخص گفتگوکرے تب حویصہ نے گفتگو شروع کی پس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (خیبرکے)یہودیوں کوبلوابھیجا۔جب یہودی حاضر ہوئے تو انھوں نے اس بات پر اللہ کی قسم کھائی کہ ہم نے عبداللہ بن سہل کوقتل نہیں کیا پھررسول خدا صل۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن ابن اسود رضی اللہ عنہ

   بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناھ بن زہرہ قریشی زہری۔ ان کی والدہ آمنہ بنت نوفل بن اہیب بن عبدمناف بن زہرہ ہیں ۔مسلمانوں میں ان کی قدرومنزلت بہت تھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایا مگرملاقات نہیں ہوئی لہذا ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے اور یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں زاد بھائی اور عبداللہ بن ارقم کے چچازاد بھائی تھے۔جنگ صفین کے واقع تحکیم میں شریک تھے۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو حضرت ابوموسیٰ اور حضرت عمرو بن عاص  نے (واقع حکمین میں خلافت کے لئے )ذکرکیاتھامگراورلوگوں نے کہا کہ نہ یہ خود مہاجر ہیں نہ ان کے والد مہاجر ین سے تھے(لہٰذا خلافت راشدہ کے لیے ان کاانتخاب مناسب نہیں) حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ کے یہاں ان کی قدرومنزلت زیادہ تھی اسے مروان بن حکم اورسلیمان بن یساروغیرہ نے روایت کی ہے معمر نے زہری سے انھوں نے عوف بن حارث سے انھوں نے مسور بن محزمہ او۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن اسد رضی اللہ عنہ

   اوربعض نے ان کوعبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ بیان کیاہے۔یہ اختلاف اس بن زرارہ کے نسب میں پہلے بیان ہوچکاہے۔یزیدبن ہارون اوروہب بن جریر نے اپنے والد سے اوران دونوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے عبداللہ بن ابوبکر سےانھوں نے یحییٰ بن عبادسےانھوں نے عبدالرحمٰن بن اسد بن زرارہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے قیدیوں اور ام المومنین سودہ بنت زمعہ کولے کر آل عفراکی تعزیت میں شریک ہونے کے واسطے تشریف لائےاس کے بعد پوری حدیث اس روایت میں بیان کی ہے۔نیز ہم کوابوجعفر عبداللہ بن احمد نے اپنی سند کو یونس بکیرتک پہنچاکرخبردی وہ محمد بن اسحاق سے روایت کرتے تھے کہ انھوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن بکر سے یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن اسد بن زرارہ سے روایت کرکے بیان کیاکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدرکے قیدیوں اور ام المومنین سودہ بنت زمعہ کوساتھ لیے ہوئے مدینہ م۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن ابن ازہررضی اللہ عنہ

   بن عوف بن عوف بن حارث بن زہرہ بن کلاب قریشی زہری ہیں ان کی والدہ عبدیزید بن ہاشم بن مطلب کی بیٹی تھیں۔یہ عبدالرحمٰن ابن عوف کے بھتیجے ہیں اس کوابوعمر نے بیان کر کے کہا ہےکہ جس کو عبدالرحمٰن بن عوف کا چچازاد بھائی کہا ہے اس نے غلطی کی ہے۔اورابن مندہ  نے (ان کا نسب اس طرح)بیان کیا ہے عبدالرحمٰن بن ازہر بن عبدعوف بن عبدحارث اور لکھا ہے کہ یہ عبدالرحمٰن ابن عوف کے چچازادبھائی ہیں اورابونعیم نے ان کا نسب اس طرح بیان کیا ہے عبدالرحمٰن بن ازہر عبدعوف بن عبدبن حارث اورلکھا ہے کہ یہ عبدالرحمٰن بن عوف کے بھتیجے ہیں۔ یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں موجود تھے۔اوران کی کنیت ابوحبیر تھی ان سےابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور محمد بن ابراہیم بن حارث اور ان کے بیٹے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن ازہر نے روایت کی ہے ہم کو زین الامناابوالبرکات حسن بن محمد بن ہبتہ اللہ دمشقی نے خبر۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن وقدان بن عبدشمس بن عبدود بن نضربن مالک بن حل بن عامربن لوی۔عامری قریشی۔یہ ابن سعدی کے ساتھ مشہورتھے اس لئے کہ انھوں نے قبیلہ بنی سعد بن بکر میں دودھ پیاتھا۔بعض لوگوں نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے عبداللہ بن عمروبن وقدان اور ان کا تذکرہ اپنے موقع پر گذر گیا ہے۔اہل شام کے بڑے بڑے تابعی ابوادریس اور عبداللہ بن محریز اور مالک بن نجار نے ان سے حدیث روایت کی ہے۔ہمیں ابوقاسم یعنی یعیش بن صدقہ بن علی فراقی فقیہ  نے اپنی سند کے ساتھ احمد بن شعیب تک خبردی وہ کہتے تھے ہمیں عیسیٰ بن ساور نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ولید نے عبداللہ بن علاء بن زین سے انھوں نے بسر بن عبداللہ سے انھوں نے عبداللہ بن وقدان سعدی سے روایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ ہم سب وفد بن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئےپس سب اپنی اپنی حاجت وضرورت پیش کرنے لگے۔میں سب کے آخرمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن وداح۔ان کا ذکر طبرانی اور ان کے مابعد کے لوگوں نے کیا ہے۔عبدالرحمٰن بن جبیر بن نضیر نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے عبداللہ بن وداح قدیم الاسلام تھے صحابی تھے ہم سے حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ)فرمایاکہ قریب ہے کہ تم لوگوں پرکوئی جوان مرد بنایاجائےگاپس اس کی قوم مطیع ہوجائے گی وہ قوم کہ جس کے سرکے موخر جانب تعلق ہوگا اور اس کی سواریاں سفید ہوں گی جب حاکم ان لوگوں پرکوئی حکم کرے گا تو (فوراً)حاضرہوجائیں گے۔پس اس کے بعد ہی عبداللہ بن وزاح کسی شہرکے حاکم بنائے گئے تو دہقانی کی قوم جوق درجوق ان کے پاس آنےلگی کہ جس کے سر کے موخر جانب تعلق تھا او ر اس کی سواریاں سفید تھیں پس جب عبداللہ ان پرکوئی حکم نافض کرتے توفوراً وہ لوگ حاضر ہوجاتے اس وقت عبداللہ(بے ساختہ) یہ کہتے کہ سچ کہتے کہ سچ کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ان کا تذکرہ ۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن ودیقہ بن حرام۔انصاری۔یہ صحابی ہیں ان کوابوحاتم رازی نے صحابہ میں ذکرکیا ہے۔ابومعشر نے سعید مقبری سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عبداللہ بن ودیعہ سے جوکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے روایت کرکے بیان کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ جس نے جمعہ کے دن غسل کیامثل غسل جنابت کے الیٰ آخرالحدیث اور اس حدیث کو ابن عجلان نےمقبری سے انھوں نے اپنے والد سےانھوں نے ابن ودیعہ  انھوں نے ابوذر سے روایت کرکے بیان کیاہے اور ابن ابی ذہب نے سعید سے انھوں نے اپنے والد ابن ودیعہ سے انھوں نے سلمان فارسی سے روایت کرکے اس حدیث کو بیان کیاہے یہی صحیح ہے ۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن وائل بن عامر بن مالک بن لودان۔یہ صحابی ہیں۔غزوہ احداورکل غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے ان کے بعد ان کی اولاد باتی تھی ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن وائل ہیں انشاء اللہ تعٰالیٰ ان کا ذکراپنے موقع پر کیاجائے گا۔۔۔۔

مزید