سلمی ہیں ان کا شماراہل مدینہ میں ہے ان سے ابویزیدمدنی نے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن نے کہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرمیں ایک ہزارآٹھ سو صحابی کوساتھ لے کرجہاد کیاپھراس کواٹھارہ حصہ پرتقسیم کیا۔خیبراس وقت میوہ جات سے سرسبزتھالوگ میوہ کھانے میں مشغول ہوگئے (جس کی وجہ سے ان سب کو بخارآگیا۔جب بخار میں مبتلاہوئے)توانھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنی بیماری کی)شکایت کی آپ نے فرمایااے لوگوں بخار اللہ تعالیٰ (کی طرف سے)قیدخانہ ہے اور(دوزخ کی)آگ کاایک ٹکڑاہے جب وہ تم کوپکڑلے (یعنی جب بخار میں مبتلا ہوجاؤ)تو اس کوپانی سے ٹھنڈا کرو(یعنی غسل کرو حسب الحکم)ان لوگوں نے ویساہی کیاپس ان کا بخارجاتارہا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ان کوابن ابی علقمہ ثقفی بیان کیاہے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہےاوربیان کیاگیاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے وفد آئے ان میں سے یہ عبدالرحمن بھی تھے ان سے عبدالملک بن محمد ابن بشیرنے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کاوفدآیا اوران کے ساتھ کچھ تحفہ بھی تھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکہ یہ کیاچیزہےان لوگوں نے کہاکہ صدقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ صدقہ وہ چیزہے جس سے صرف رضامندی خدامقصودہو اورہدیہ وہ ہے جس سے رضامندی رسول اور (کوئی)حاجت روائی مقصودہو ان لوگوں نے کہا کہ یہ صدقہ نہیں ہے بلکہ یہ ہدیہ ہے اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول کرلیاعبدالرحمن سے عون بن حجیفہ نے اسی طرح روایت کی ہے ابوحاتم نے کہاہے کہ یہ عبدالرحمن تابعی ہیں صحابی نہ تھے۔۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی صنابحی ہیں صنابح یمن میں ایک قبیلہ ہے۔ابوعبداللہ اسی قبیلہ کی طرف منسوب ہیں یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان تھے اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے واسطے انھوں نے ہجرت کی تھی جب(مقام)حجفہ میں پہنچے توان کو خبرملی کہ پانچ دن ہوئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی یہ تابعین کے اعلیٰ طبقہ میں شمار کیے گئے ہیں۔شہرکوفہ میں فروکش تھے۔انھوں نے حضرت ابوبکر اورعمراوربلال اورعبادہ بن صامت سے روایت کی ہے یہ عبدالرحمن بڑے بزرگ تھے یزید بن ابی حبیب نے ابوالخیر سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں صنابحی سے کہاکہ تم نے ہجرت کی ہے۔انھوں نے جواب دیا کہ میں یمن سے نکل کر حجفہ تک پہنچاتھا کہ ہمارےپاس ایک سوارکاگذرہوا ہم نے اس سے کہا تیرے پیچھے والوں کاکیاحال ہے اس نے جواب دیا کہ آج پانچ دن ہوئے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پا۔۔۔
مزید
بن عبیدبن کلاب بن وہمان بن غنم بن جہم بن ذبل بن جہنی بن بلی۔اسی طرح ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا نسب بیان کیاہے۔یہ بلوی(یعنی خاندان بلی سے)ہیں اورصحابی تھے بیعت رضوان میں شریک تھے انھوں نے بھی اس دن بیعت کی تھی جولشکرمصرسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرہ کوآیاتھااور جس نے ان کوشہیدکیاتھایہ اس کے سردارتھے ان سے حصر کے تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے منجملہ ان کے ابوالحصین ہیثم بن سفیان اور عبدالرحمن بن شمامہ وابوثور فہمی ہیں ابن لعیہ نے عیاش ابن عیاش بن عباس سے انہوں نے حجری سے انھوں نے عبدالرحمن بن عدیس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کے کچھ لوگ (جہاد کے لیے)نکلیں گے اور وہ کوہ خلیل میں قتل کیے جائیں گے چنانچہ جب فساد پیداہواتوابن عدیس بھی ان لوگوں میں تھے جن کو حضرت معاویہ نے گرفتارکیاتھااورشہرفلسطین میں قی۔۔۔
مزید
قریشی تیمی ہیں طلحہ بن عبیداللہ کے بھتیجے تھے ان کی والدہ عمیرہ بنت جدعان عبداللہ بن جدعان کی بہن تھیں واقعہ حدیبیہ میں اسلام لائے تھےبعض لوگ کہتے ہیں کہ فتح مکہ میں اسلام لائے تھےاورابوعبیدہ بن جراح کے ساتھ واقعہ یرموک میں شریک تھے معاذ اور عثمان ان کے بیٹے تھے ان دونوں نے ان سے روایت کی ہے اوران سے سعیدبن مسیب اورابوسلمہ اوریحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب نے روایت کی ہے یہ عبداللہ بن زبیرکے ساتھیوں میں سے تھے اور انھیں کے ساتھ شہیدہوئےعبداللہ ابن زبیرکے حکم سے یہ مسجد میں دفن کیے گئے اور ان کی قبرپوشیدہ کردی گئی پھرقبرپرگھوڑے دوڑائے گئے تاکہ اہل شام اس قبرکونہ دیکھیں ہم کومنصور بن ابی الحسن بن ابی عبداللہ مخزومی نے اپنی سندکواحمد بن علی بن متنی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوعبداللہ ابن دورقی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے طالقانی یعنی ابراہیم بن اسحاق نے بیان کیا و۔۔۔
مزید
بن ساعدہ۔ابوعمرنے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے۔ ان کاصحابی ہونااورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت سےشرفیاب ہوناثابت نہیں ہے۔۔۔۔
مزید
بن ساعدہ۔ابوعمرنے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے۔ ان کاصحابی ہونااورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت سےشرفیاب ہوناثابت نہیں ہے۔۔۔۔
مزید
نمیری ہیں ان کاشمار اہل شام میں ہےابن ابی عاصم نے ان کو احاد میں ذکرکیاہے ابونعیم نے ان کوعلیحدہ بیان میں لکھاہےہم کوابوموسیٰ نے اجازتاًخبردی ہے وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سےعبدالرحمن بن ابی بکراوراحمد بن عبداللہ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عبداللہ بن محمد بن محمد نے بیان کیا ہے وہ کہتے تھےہم سے احمد بن عمرو بن ابی عاصم نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عمروبن عثمان نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے بقیہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے اوزاعی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے یحییٰ بن ابی عمروشیبانی نے عبداللہ بن ویلمی سے انھوں نے عبدالرحمن بن عبیدنمیری سےروایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ اسلام میں تین سوپندرہ اخلاق ہیں جوشخص ان میں سے ایک خصلت پربھی بغرض تحصیل ثواب عمل کرے اس کو اللہ جنت میں داخل کرے گا ابن ابی عاصم نے کہاہے کہ یہ حدیث میری کتاب میں مرفوعاً نہیں مروی ہے۔او۔۔۔
مزید
شمالی ہیں ان کا ذکرصحابہ میں کیاگیاہے ابوعمرنےکہاہے کہ میں ان کوعبداللہ بن قرط کا بھائی سمجھتاہوانھوں نے شام میں سکونت اختیارکی تھی اہل فلسطین میں ان کا شمارہے۔مسکین بن میمون نے جومسجدرملہ کے موذن تھےعروہ بن رویم سے انھوں نے عبدالرحمن بن قرط سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شب (یعنی شب معراج میں)مسجد اقصٰی تک(جوملک شام میں بیت المقدس کے نام سے مشہورہے)اس شب میں جس میں آپ کومعراج ہوئی اور مسجداقصٰی تک آپ پہنچائے گئے مقام ابراہیم اور زم زم کے درمیان(تشریف فرما)تھے جبرائیل آپ کے داہنی (طرف) اور میکائیل بائیں طرف تھےپھروہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کولے کراڑے یہاں تک کہ آپ ساتوں آسمانوں تک پہنچےاوریہ پوری حدیث بیان کی۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے مگر ابوعمرنے کہاہے کہ مسکین بن میمون نے عبدالرحمن سے روایت کی ہے اور ابن مندہ اورا بونعیم نے مسکین اورعبدالرحمن کے۔۔۔
مزید
سلمی۔ان کا اہل حجاز میں شمارہے۔ان کو بعض لوگ ابن فاکہ بھی کہتےہیں۔ ان سے عمارہ بن خزیمہ بن ثابت اور احادیث ابن فضیل نے روایت کی ہے۔ہمیں ابوالقاسم یعنی یعیش بن صدقہ فقیہ نے اپنی سند کو عبدالرحمن بن شعیب تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے عمروبن علی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے جعفرخطمی یعنی عمیربن یزید نے عمارہ بن خزیمہ اور حارث بن فضیل سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی قراد سے نقل کرکے بیان کیاہے وہ کہتے تھے کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفع حاجت کے واسطے نکلا حضرت جب (رفع)حاجت کاارادہ کرتےتھے تودور(تشریف لے)جاتے تھے۔ابوجعفرانصاری نےحارث بن فضیل سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی قرادسےروایت کی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز وضوکیااور لوگ آپ کے وضوکے غسالہ لے لےکراپنے چہروں پرملنے لگے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس شہ نے اس فعل پر تم کو ترغیب دی ۔۔۔
مزید