اتوار , 17 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 05 April,2026

حضرت شاہ لطف اللہ چشتی

حضرت شاہ لطف اللہ چشتی  علیہ الرحمۃ آپ حضرت بھیکھہ چشتی کے مرید اور خادم تھے انبالہ میں رہتے تھے ابھی بچے ہی تھے تو حضرت شاہ بھیکھہ چشتی نے آپ کو اپنی پرورش میں لے لیا دین اور دنیوی علوم سکھائے آپ نے ایک کتاب ثمرۃ الفواد کے نام پر لکھی جس میں شاہ بھیکھہ کی کرامات اور مقامات کا ذکر ہے۔ آپ بروز ہفتہ بیس (۲۰) ذیقعد ۱۱۸۶ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار جالندھر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔ شد چو لطف اللہ با لطاف آلہٖ بعد فوت خود بقرب حق قبول کن رقم اہل نظر تاریخ او بار دیگر کن بیان فیض رسول ۱۱۸۶ھ۔۔۔

مزید

شاہ بہاءالدین باجن برہان پوری

حضرت شاہ بہاءالدین باجن برہان پوری رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی:شاہ بہاء  الدین۔تخلص:باجن۔لقب:ادیبِ اول اردو،صاحبِ علم وعرفاں۔سلسلۂ  نسب اس طرح ہے: حضرت شیخ بہاء الدین شاہ باجن بن حاجی معزالدین بن علاء الدین بن شہاب الدین بن شیخ ملک بن مولانا احمد خطابی مدنی علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب﷜ کےبھائی ہبل بن خطاب کی  نسل سےہیں۔آپ کےجد اعلیٰ حضرت شیخ احمد خطابی مدنی﷫حضرت ابو مدین ﷫کےمریدین میں سےتھے۔ علوم ِ دینیہ میں تبحر حاصل تھا۔ علم ِ حدیث کےتو گویا  امام تھے۔ حدیث کی اکثر مشکلات صاحبِ حدیث علیہ السلام سےحل کراتےتھے۔ ہمیشہ آدھی رات کے وقت جب روضۂ رسولﷺ کی آستانہ بوسی کےلئےحاضر ہوتے، تو آپ کے لیے حرم محترم کےدروازے خود بخود کھل جاتے تھے، بارگاہِ حبیبﷺمیں رازو نیاز کی باتیں کرتےپھرواپس آجاتے۔(گلزار ابرار:212) پھر یکایک دل میں سیر وسیاحت کی ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نظام الدین اورنگ آبادی

حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:برہان العارفین حضرت مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی۔آپکا سلسلہ ٔ نسب  شیخ الشیوخ حضرت  شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے واسطے سے حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے،اس لئےآپ "صدیقی"ہیں۔آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خواجہ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان سے تھیں۔ تاریخِ ولادت:  آپ کی ولادت باسعادت  1060ھ،بمطابق 1650ء کو "قصبہ نگراؤں"شہرکاکوری ضلع لکھنؤہندوستان میں ہوئی ۔ تحصیلِ علم: آپ کی تعلیم و تربیت اپنے  وطن میں ہوئی۔ دہلی کے اہلِ علم کاشہرہ سن کرآپ بقصد انصرام بقیہ تحصیل علم دہلی تشریف لائے۔ دہلی میں آپ نےحضرت شیخ شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی رحمتہ اللہ علیہ کا شہرہ فضل و کمال سنا،آپ نےچاہاکہ حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کی خدمت میں حا۔۔۔

مزید

حضرت سید ابو صالح موسی جنگی دوست

 ابو صالح  موسیٰ  جنگی  دوست، حضرت سیّد نام:               سیّد موسیٰکنیت:             ابو صالحلقب:             جنگی دوستنسب:             آپ حسنی ساداتِ کرام میں سے ہیں۔سلسلۂ نسب:حضرت سیّد  ابو صالح  موسیٰ جنگی  دوست﷫ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:سیّد ابوصالح  موسیٰ جنگی دوست بن سیّد ابو عبد اللہ الجیلانی  بن سیّد یحییٰ زاہد بن سیّدمحمدبن سیّدداؤدبن سیّدموسیٰ ثانی بن سیّد عبداللہ بن سیّد موسیٰ الجون بن سیّدعبداللہ المحض بن سیّدحسن المثنیٰ بن سیّدنا امام المتقین سیّدنا امام  حسن بن۔۔۔

مزید

شیخ جمالی دہلوی سہروردی

شیخ جمالی  دہلوی سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی: حامد بن فضل اللہ ،بعض مؤرخین کے نزدیک آپ کا نام جلال خان عرف جمالی ہے۔لقب: شیخ جمالی،درویش جمالی،جما ل الدین فضل اللہ ۔"کمبوہ"قبیلہ سے تعلق کی وجہ سے"جمالی کمبوہ" بھی کہا جاتا ہے۔تخلص: جمالی۔والد کا اسمِ گرامی: فضل اللہ تھا۔(آثار شیخ جمالی:150) تاریخِ ولادت: آپ /862ھ،بمطابق 1458ء کو پیدا ہوئے۔(ایضاً) تحصیلِ علم: صغرسنی میں آپ کےسرسےوالد کاسایہ اٹھ گیا تھا۔اپنی خداداداستعداد اورقابلیتِ فطری کےسبب عمدہ تعلیم و تربیت سےبہرہ مندہوئے،اورعلوم رسمی میں فضیلت حاصل کی۔آپ کے مروجہ علوم کے اساتذہ کے نام  دستیاب نہیں ہیں،آپ اپنے شیخ کی خانقاہ میں کافی عرصہ رہے ہیں،اور اس وقت کی خانقاہیں ایک یونیورسٹی کادرجہ رکھتی تھیں۔ ہوسکتا ہے آپ نے تمام علوم اپنے شیخ سے حاصل کیے ہوں،کیونکہ شیخ سماء الدین سہروردی شیخِ طریقت کےساتھ ۔۔۔

مزید

صاحبزادۂ بانی شمس العلوم حضرت مولانا قاسم سیالوی

صاحبزادۂ بانی شمس العلوم حضرت مولانا قاسم سیالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بانیٔ شمس العلوم جامعہ رضویہ حضرت علامہ غلام محمد سیالوی دامت برکاتہم العالیہ کے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا قاسم سیالوی بروز ہفتہ ۹ ذی القعدۃ ۱۴۳۷ہجری بمطابق ۱۳۔اگست ۲۰۱۶ء حرکتِ قلب بند ہوجانے کی وجہ سے انتقال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔

مزید

حضرت مولانا فقیر محمد صالح قادری

حضرت مولانا فقیر محمد صالح قادری علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خانپوری

  سراج الفقہاء مولانا سراج احمد خان پوری رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا سراج احمد ۔لقب:سراج الفقہاء۔آپ کی علمی وفقہی بصیرت کی بناء پریہ لقب غزالیِ زماں شیخ الحدیث حضرت سید احمد سعید شاہ کاظمی﷫نےدیاتھا۔خان پوروطن کی نسبت سے’’خان پوری‘‘ کہلاتےہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:سراج الفقہاء حضرت مولانا سراج احمد خان پوری بن  مولانااحمدیاربن مولانامحمدعالم علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ﷫کےوالدِگرامی مولانا احمدیارصاحب﷫اس علاقےکےجیدعالم دین اور صاحبِ فتویٰ وتقویٰ تھے۔آپ کےجدامجدمولانا محمد عالم ﷫حضرت خواجہ غلام فرید﷫(کوٹ مٹھن شریف) کےپیر ومرشد اوربرادرِ بزرگ حضرت خواجہ فخرجہاں چشتی﷫کےہم درس اور پیربھائی تھے۔مولانا محمد عالم ﷫نےتمام درسی کتب اپنےہاتھ سےلکھیں تھیں۔اسی طرح سراج الفقہاء کےنانا مولانا امام بخش﷫بھی معاصرعلماء میں ممتاز مقام رکھتےتھے۔یعنی طرفین سےخ۔۔۔

مزید

شیخ حسین بن منصور حلاج

حضرت  شیخ حسین بن منصور حلاج رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی:حضرت حسین۔کنیت: ابوالمغیث۔لقب:حلاج۔آپ عوام میں’’منصورحلاج‘‘کےنام سےمعروف ہیں۔حالانکہ آپ کانام حسین اور والد کانام منصورہے۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے:ابوالمغیث شیخ حسین بن منصور حلاج بن محمی۔(تذکرہ منصور حلاج:13)ان کےداداآتش پرست اور اپنےوقت کےبہت بڑےفلسفی ،اورفلسفےکےمعلم تھے۔ان کےوالد اپناآبائی مذہب ترک کرکےدینِ اسلام قبول کرلیاتھا۔وہ ایک درویش صفت اوراپنےکام میں مصروف رہنےوالےانسان تھے۔ریشمی کپڑےکی مارکیٹ میں ان کاایک نام تھا۔ریشمی کیڑےپالنا اورپھران سےکپڑےتیارکرناان کامشغلہ تھا۔  حلاج کی وجہ تسمیہ: حلاج عربی زبان کالفظ ہے۔اردو میں اس کامطلب ہے’’دھنیا‘‘یعنی روئی اور بنولےکوالگ الگ کرنےوالا۔شیخ فریدالدین عطار﷫اور مولانا جامی ﷫فرماتےہیں:’’یہ آپ کی ذات نہیں تھی بل۔۔۔

مزید

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد سلیمان چشتی

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد سلیمان چشتی  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مولانا مفتی محمد سلیمان چشتی آزاد کشمیر ضلع پونچھ، تحصیل عباس پور، علاقہ چھاترہ ، رقبہ بھنگوال میں ۱۹۳۵ء کو تولد ہوئے۔ آپ کی قوم گجروں کے مشہورقبیلے کا لس راجپوت ہیں۔ آپ کے والد میاں شیر محمد گاوٗں کے امام مسجد تھے۔ آپ کے پانچ بھائی تھے جو کہ اب سب انتقال کر چکے ہیں ۔ جب آپ تین سال کی عمر کو پہنچے تو والد انتقال کر گئے اور کچھ عرصہ کے بعد والدہ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم علاقے کے مشہور عالم حضرت مولانا علی محمد کلروی سے حاصل کی۔ اس کے بعد ٹیچر عبدالرحیم سے اسکول میںپہلی جماعت پڑھی ۔ اس دوران ۱۹۴۷ء میں عظیم انقلاب برپا ہوا۔ دنیا کے نقشہ پر پاکستان ابھر کر سامنے آیا۔ ۱۹۵۷ء میں جا معہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں داخلہ لیا۔ ۱۹۶۰ء میں آرام باغ کراچی میں تاج العلماء مفتی محمد عمر نعیمی کی ۔۔۔

مزید