آپ ہرات کے متقدمین مشائخ میں سے تھے۔ مستجاب الدعوات تھے۔ آپ صاحبِ تصانیف بزرگ ہوئے ہیں۔ مختلف علوم میں ماہر تھے۔ فراست اور صداقت میں یگانہ روزگار تھے۔ اور تجرید و تفرید میں یکتائے زمانہ تھے۔ حضرت حارث محاسبی نے اپنے والد مکرم سے تیس ہزار دینار میراث حاصل کی تھی آپ نے حکم دیا کہ یہ سارا اثاثہ بیت المال میں جمع کرادیا جائے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ القدرِیّہ مجوسٌ ھٰذا لامت (قدریہ فرقہ والے اس امت کے مجوسی ہیں) میرے والد فرقہ قدریہ سے تعلق رکھتے تھے۔ مجھے اس مال کی ضرورت نہیں۔ مجھے ایسا ورثہ لینا جائز نہیں۔ چنانچہ سارے ورثے سے دست بردار ہوکر بیت المال میں جمع کرادیا۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں آپ پر اس قدر تھیں کہ آپ مشکوک طعام کی طرف ہاتھ بڑھاتے تو آپ کی انگلیوں کا رنگ متغیر ہوجاتا اور انگلیوں میں طاقت نہ رہتی کہ ایسے مشکوک لقمہ کو اٹھاتے اس طرح اللہ ت۔۔۔
مزید