حضرت غوث الاعظم کے کامل و اکمل خلفأ سے تھے۔ فتوحاتِ مکیہ میں مذکور ہے کہ حضرت غوث الاعظم نے آپ کے متعلق فرمایا تھا کہ محمد ابن القاید اپنے زمانے میں منفرد ہیں اور منفردین، وہ جماعت ہے جو دائرہ قطب سے خارج ہے۔ حضرت خضر نیز رسول اللہﷺ بعثت سے پہلے انہی سے تھے۔ ابن القاید فرماتے ہیں کہ میں نے ماسوا اللہ سے روگردانی کرلی اور ترکِ علائق کے بعد میں حضرت کی خدمت میں آگیا۔ اچانک میں نے اپنے سامنے ایک پاؤں کا نشان دیکھا۔ مجھے غیرت آئی اور سوچنے لگا کہ یہ کس کے پاؤں کا نشاں ہے کیونکہ میں اپنے خیال میں یہ سمجھتا تھا کہ مجھ سے کوئی سے سبقت نہیں کرسکتا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ قدم رسول اللہﷺ کے نشان ہیں جس سے مجھے اطمینان ہوگیا۔ ۵۷۶ھ میں وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: چوں محمد از جہاں بالطفِ حق رحلتش سردارِ عالی شد عیاں ۵۷۶ھ گشت در فردوسِ والا بہرہ یاب نیز شد روشن محمد آفتا۔۔۔
مزید
تاج العارفین شیخ ابوالوفا[1] سے بیعت تھے۔ بڑے زاہد و عابد اور صاحبِ کرامت تھے۔ حضرت غوثِ اعظم کی مجلس میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ صاحبِ انیس القادریہ رقم طراز ہیں کہ آپ نے ایک روز فرمایا: میں مجلس حضرت غوث الثقلین میں حاضر تھا اور حضرت منبر کے پہلے پائے پر وعظ فرمارہے تھے کہ دورانِ وعظ میں دفعتًہ خاموش ہوگئے اور منبر سے نیچے اتر کر زمین پر آگئے۔ ساعت بھر خاموش رہے۔ پھر منبر کے پایۂ دوم پر رونق افروز ہوکر وعظ کہنا شروع کیا۔ اس دوران میں نے مشاہدہ کیا کہ منبر حدِ نظر تک کشادہ ہوگیا ہے اور اُس پر سبز رنگ کی مسند بچھائی گئی ہے اور حضرت رسالت مآبﷺ صحابہ کبار کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے ہیں اور حق تعالیٰ نے حضرت غوث اعظم کے دل پر تجلّی فرمائی ہے اور حضرت غوث انوارِ تجلّی کی شدّت سے گراہی چاہتے ہیں کہ حضورِ اقدس انہیں سنبھال لیتے ہیں۔ پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت کا جسم چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک ک۔۔۔
مزید
آپ کا شمار مشائخ ِکبار اور بزرگ ترین اولیا اللہ میں سے ہوتا ہے۔ تاج العارفین شیخ ابوالوفاء کے مرید و خلیفہ تھے۔ حضرت غوثِ اعظم کی خدمت میں حاضر ہوکر فیوض و برکات سے حصّۂ وافر حاصل کرتے تھے۔ جس وقت حضرتِ اعظم نے ‘‘قدمی ھذا علٰی رقبۃ کل ولی اللہ’’ فرمایا تھا تو آپ پہلے شخص تھے جنہوں نے منبر پر جاکر حضرت کا قدمِ مبارک اپنی گردن پر رکھا تھا۔ ایک روز آپ حضرت غوثِ اعظم کی مجلسِ وعظ میں شریک تھے اور آپ کے نزدیک ہی بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر غلبۂ خواب طاری ہونا شروع ہُوا۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر حضرت غوث اعظم نے فرمایا: اے اہلِ مجلس خاموش ہوجاؤ اور آپ خود منبر سے نیچے تشریف لاکر اُن کے پاس باادب کھڑے ہوگئے۔ جب شیخ علی بیدار ہوئے تو حضرت نے پوچھا: کیا رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا: عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: میں اسی لیے تو حضورِ اقدس کے احترام میں مودب کھڑا تھا۔ پوچھا کس بات کی وصیت۔۔۔
مزید
ابوبردہ انصاری،جابر بن عبداللہ ان کے راوی ہیں،کہ ابواحمد بن سکینہ نے بتایا،کہ انہیں ابوغالب الماءروی نے عطیتہً باسنادہ ابوداؤد سجستانی سے،انہوں نے قتیبہ بن سعید سے،انہوں نے لیث سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے،انہوں نے بکیر بن عبداللہ بن اشجع سے،انہوں نے سلیمان بن یسار سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن جابر سے،انہوں نے ابوبردہ سےروایت کی،کہ حضورِاکرم نے فرمایا،کہ کسی شخص کو بھی بغیر حدود اللہ کے دس کوڑوں سے زیادہ مت مارو۔ نیزبکیر بن عبداللہ نے سلیمان سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن جابر سے،انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابی بردہ سےروایت کی،احمد بن زہیر کہتے ہیں،کہ وہ ظفری ہیں،یا کوئی اور،ان کے علاوہ کسی اور راوی کاقول ہے کہ اس حدیث کو جابر نے ابوبردہ بن نیار سے روایت کیا ہے،ابونعیم نے ابن نیار کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے،واللہ اعلم،ابوعمر نے ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حبیب بن عبید بن حارث انصاری: غسانی نے واقدی سے روایت کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ قرشی تیمی: فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ ان کے بیٹے عبید اللہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہوئے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی الہیثم اسدی: ایک روایت میں معقل بن ابی معقل اور معقل بن ام معقل بھی آیا ہے، لیکن آدمی ایک ہی ہے۔ مدنی ہے۔ ان سے ابو سلمہ ابو زید اور ام معقل نے روایت کی ہے۔ عمرو بن ابی عمرو نے ابو زید سے انہوں نے معقل بن ابی الہیثم اسدی سے جوان کے حلیف تھے، اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ انہوں نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بول اور پاخانہ کرتے وقت کعبے کا رُخ کرنے سے منع فرمایا۔ نیز ان سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان میں عمرے کا ثواب حج جتنا ہے۔ یہ امیر معاویہ کے عہد میں فوت ہوئے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن یسار بن عبد اللہ بن معبر بن حراق بن لائی بن کعب بن عبد بن ثور بن ہدمہ بن لاطم بن عثمان بن عمرو بن او بن طابخہ بن الیاس بن مضرا المزنی: ان کی کنیّت ابو عبد اللہ، ابو یسار یا ابو علی تھی۔ عثمان اور اوس کو جو عمرو کے بیٹے تھے۔ مزینہ اس لیے کہتے تھے کہ وہ اپنی ماں مزینہ سے منسوب تھے، جو کعب بن و برہ کی بیٹی تھی معقل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ اور بیعت رضوان میں موجود تھے اور انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر پر بیعت کی تھی کہ ہم میدانِ جنگ سے نہ بھاگیں گے۔ بصرہ میں مقیم ہوگئے تھے اور بصرہ کی نہر معقل کی طرف منسوب ہے۔ یہ صاحب بصرہ ہی میں امیر معاویہ کے عہد میں فوت ہوئے۔ ایک روایت میں یزید کا عہد مذکور ہے۔ ان سے عمرو بن میمون الاودی، ابو عثمان نہدی اور حسن بصری نے روایت کی اور ان سے کئی احادیث مذکور ہیں۔ عبد اللہ بن احمد بن عبد القاہر خطیب نے ابو عمر جعفر ب۔۔۔
مزید
یہ نام ہے، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدِ شمس کا۔ ان کے نام کے بارے میں اور بھی کئی روایات ہیں۔ اس کا ذکر گزر چکا ہے اور کنیتوں کے عنوان کے تحت ہم ذرا تفصیل سے ان کا ذکر کریں گے۔ کیونکہ وہ اپنی کنیّت کی وجہ سے زیادہ مشہور ہیں۔۔۔۔
مزید
بن سنان بن مظہر بن عرکی بن فتیان بن سبیع بن بکر بن اشجع بن ریث بن غطفان الاشجعی: ان کی کنیت ابو عبد الرحمان ہے۔ بعض روایات میں ابو زید ابو سمنان اور ابو محمد بھی آئی ہے۔ فتح مکہ میں موجود تھے۔ مدینہ آ گئے اور پھر یہیں رہ گئے۔ فاضل اور متقی آدمی تھے۔ انہوں ہی نے بروع بنت واشق کی حدیث بیان کی۔ اسماعیل اور ابراہیم وغیرہ نے باسناد ہما محمد بن عیسی سے انہوں نے محمود بن غیلان سے انہوں نے زید بن حباب سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے ابن مسعود سے روایت کی، کہ ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کہ ایک ایسے آدمی سے کتنا مہر وصول کیا جائے گا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہر بھی مقرر نہ کیا۔ اور اس سے زنا شوئی تعلقات بھی قائم نہ کیے اور وہ مرگیا۔ ابن مسعود نے فتوی دیا کہ اس پر مہر مثل کی ادائیگی فرض ہوگی۔جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہوگی اور اسے میر۔۔۔
مزید