ہَوا یہ چل گئی کیسی جلی فَصلِ بہار اپنی
گلستاں کا یہ عالَم دیکھ کے حالت ہے زار اپنی
ہمیں یہ سنگ دل کیوں چین سے جینے نہیں دیتے
ہوئی کس جُرم میں خواری مِرے پروردگار اپنی
نہ مَسلو، ظالمو! کلیاں، چمن کے پھول مت توڑو
یہ اپنا ہی گلستاں ہے یہ ہے فَصلِ بہار اپنی
بنامِ باغ بانی پھول تم نے ذبح کر ڈالے
بڑے تم سُورما ہو روک لو اب تو کَٹار اپنی
نہتّوں پر نہ دیکھو آزما کر دھارِ خنجر کو
یہ دنیا کیا کہے گی یوں کرو حالت نہ خوار اپنی
نہ دو الزام گل چیں کو چمن کے باغ باں تم ہو
تمھارے
دَور میں کیسے کٹی فَصلِ بہار اپنی
نشاں بھی اب مٹانا چاہتے ہو میرا، گلشن سے
یہ
میرا ظرف تھا کہ بخش دی تم کو بہار اپنی
میں گلشن میں جہاں چاہوں بناؤں آشیاں اپنا
یہ
گل اپنے، کلی اپنی، چمن اپنا، بہار اپنی
ستم
یہ ہے کہ سب کچھ جان کے انجان بنتے ہیں
وہ جن کے غم میں آنکھیں نم ہُوئی
ہیں بار بار اپنی
ستم گر، بے وفاؤ، سنگ دل میں نے تمھیں
چاہا
خطا
میری سہی لیکن ادائیں کر شمار اپنی
مناسب ہے یہی، ریحاؔں! عَنادِل
فیصلہ کر لیں
کہ
اب ہم خود ہی دیکھیں گے چمن اپنا، بہار اپنی