جمعہ , 11 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 30 January,2026


یہ گل نہیں یہ عنادل نہیں یہ خار نہیں





یہ گل نہیں یہ عنادل نہیں یہ خار نہیں
وہ کون ہے جو ستم خوردۂ بہار نہیں
یہ تیرے پند سر آنکھوں پہ ناصحا لیکن
خدا گواہ محبت پہ اختیار نہیں
پھر اس میں آیا کہاں سے کمالِ رعنائی
اگر یہ کاہکشاں انکی رہگذار نہیں
بس اپنی شومئی قسمت سے جی لرزتا ہے
یہ مت سمجھنا مجھے تجھ پہ اعتبار نہیں
بروز حشر شفاعت کا دیکھ کے منظر
وہ کون ہوگا جو کہہ دے گناہ گار نہیں
تمام خلق کا میں خیر خواہ ہوں اے دوست
خدا گواہ کسی سے مجھے غبار نہیں
نہیں تو شیخ جبیں خود بخود ہی جھک جاتی
یہ کوئی اور جگہ ہے مقام یار نہیں
یہ کہہ کے کود پڑے آگ میں خلیل اخؔتر
کہ نار عشق سے بڑھ کر تو کوئی نار نہیں