منقول ہے قاسم و عمر سےدل شاد ہوا ہے اِس خبر سے کہتے تھے حضور مایۂ نُور جب چہک کے گرے حسین منصور اُس وقت میں تھا نہ کوئی ایسا جو ہاتھ پکڑ کے روک لیتا ہوتا جو وہ عہد ہم سے آباد ہم کرتے ضرور اُن کی اِمداد جو شخص ہوا ہے ہم سے بیعت یاوَر ہیں ہم اُس کے تا قیامت ہر حال میں اُس کا ساتھ دیں گے پھسلے گا قدم تو ہاتھ دیں گے اس شانِ رفیع کے تصدق اس لطف وسیع کے تصدق یا غوث صراط پر چلوں جب لغزش میں نہ آنے پائے مرکب ثابت قدمی یہ لطف دے جائے جنت مجھے ہاتھوں ہاتھ لے جائے گھبرائے صراط پر نہ خادم حافظ ہو صداے رَبِ َسلِّمْ وسائلِ بخشش۔۔۔
مزید
کہتے ہیں عدی بن مسافرتھا مجلسِ وعظ میں مَیں حاضر ناگاہ ہوا شروع باراں ہونے لگی انجمن پریشاں دیکھے جو یہ برہمی کے اَطوار سر سوئے فلک اُٹھا کے اک بار کہنے لگے اس طرح وہ ذیشاں میں تو کروں جمع تُو پریشاں فوراً وہ مقام چھوڑ کر ابر تھا قطرہ فشاں اِدھر اُدھر برابر اللہ رے جلالِ قادریّت قربان کمالِ قادریّت اے حاکم و بادشاہِ عالم اے داد رس و پناہِ عالم گِھر آئے ہیں غم کے کالے بادل چھائے ہیں اَلم کے کالے بادل سینہ میں جگر ہے پارہ پارہ للہ! ادھر بھی اک اِشارہ وسائلِ بخشش۔۔۔
مزید
عیسیٰ نے وہ ماجرا سنایاجس نے دلِ مُردہ کو جِلایا کہتے ہیں کہ پیش شاہِ ابرار آ کر یہ کیا کسی نے اظہار اک شخص کہ حال میں مرا ہے کیا جانیے اُس پہ کیا بَلا ہے مرقد میں ہے درد مند ہر دم ہے شور و فُغاں بلند ہر دم فرمانے لگے یہ سُن کے حضرت کیا ہم سے وہ کر چکا ہے بیعت اُس کا کبھی یاں ہوا ہے آنا کھایا ہے ہمارے گھر کا کھانا مخبر نے کہا کہ شاہِ ذی جاہ ان باتوں سے میں نہیں کچھ آگاہ اِرشاد ہوا کرم کا جھالا محروم پہ ہے فزوں برستا کچھ دیر مراقبہ کیا پھر ہیبت ہوئی روئے شاہ سے ظاہر پھر آپ یہ سر اُٹھا کے بولے دیتے ہیں ہمیں خبر فرشتے اُس شخص نے ایک بار سرور دیکھا تھا جمال روئے انور اور دل میں گمانِ نیک لایا اس وجہ سے حق نے اُس کو بخشا(۱) اُس قبر کو جا کے پھر جو دیکھا فریاد کا کچھ اثر نہ پایا عیسیٰ نے عجب خبر سنائی کی جس کی ادا نے جاں فزائی کیوں جان میں جان آ نہ جائے ٹوٹے ہوئے آسرے بندھا۔۔۔
مزید
اے کریم بنِ کریم اے رہنما اے مقتدا اخترِ برجِ سخاوت گوہرِ درجِ عطا آستانے پہ ترے حاضر ہے یہ تیرا گدا لاج رکھ لے دست و دامن کی مرے بہرِ خداروے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے منحرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے منشاہِ اقلیمِ ولایت سرورِ کیواں جناب ہے تمہارے آستانے کی زمیں گردوں قبابحسرتِ دل کی کشاکش سے ہیں لاکھوں اضطراب التجا مقبول کیجے اپنے سائل کی شتابروے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے منحرمتِ روحِ پیمبر یک نظر کن سوے منسالکِ راہِ خدا کو راہنما ہے تیری ذات مسلکِ عرفانِ حق ہے پیشوا ہے تیری ذاتبے نوایانِ جہاں کا آسرا ہے تیری ذات تشنہ کاموں کے لیے بحر عطا ہے تیری ذاتروے رحمت برمتاب اے کامِ جاں از روے منحرمتِ روحِ پی۔۔۔
مزید
یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں حقیقی عاشِقِ خیرُ الْوریٰ صِدِّیقِ اکبر ہیں بِلا شک پیکرِ صبر و رِضا صِدِّیقِ اکبر ہیں یقیناً مخزنِ صِدق و وفا صِدِّیق اکبر ہیں نِہایَت مُتَّقی و پارسا صِدِّیقِ اکبر ہیں تَقی ہیں بلکہ شاہِ اَتْقِیا صِدِّیق اکبر ہیں جو یارِ غارِ مَحْبوبِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں وُہی یارِ مزار ِمصطَفیٰ صِدِّیقِ اکبر ہیں طبیبِ ہر مریضِ لادوا صِدِّیق اکبر ہیں غریبوں بے کسوں کا آسرا صِدِّیقِ اکبر ہیں امیرُ الْمؤمنیں ہیں آپ امامُ الْمسلمین ہیں آپ نبی نے جنّتی جن کو کہا صِدِّیقِ اکبر ہیں سبھی اَصحاب سے بڑھ کر مقرَّب ذات ہے انکی رفیقِ سرور ِاَرض و سماء صِدِّیقِ اکبر ہیں عمر سے بھی وہ افضل ہیں وہ عثماں سے بھی اعلیٰ ہیں یقیناً پیشوائے مُرْتَضیٰ صِدِّیقِ اکبر ہیں امامِ احمد و مالِک، امامِ بُو۔۔۔
مزید