جمعہ , 10 شعبان 1447 ہجری
/ Friday, 30 January,2026


سنتے ہیں کہ وہ جان چمن آئے ہوئے ہیں





سنتے ہیں کہ وہ جان چمن آئے ہوئے ہیں
پھر غنچے بتا کس لئے کمہلائے ہوئے ہیں
روشن نظر آتے ہیں دروبامِ تمنا
تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں
پرواہ نہیں اپنا بنائیں نہ بنائیں
ہم تو انھیں اپنائے تھے اپنائے ہوئے ہیں
کیا بات ہے یہ داور محشر کے مقابل
ہم ہیں بت خاموش وہ شرمائے ہوئے ہیں
اخؔتر ہے بہت خوب یہ انداز تکلم
تنہا ہیں مگر بزم کو گرمائے ہوئے ہیں