جمعہ , 10 شعبان 1447 ہجری
/ Friday, 30 January,2026


سلجھا دے جو شانہ دم بھر میں الجھے ہوئے گیسو امت کے





سلجھا دے جو شانہ دم بھر میں الجھے ہوئے گیسو امت کے
تلواروں کی چھاؤں میں ایسا اک شانہ بنانے جاپہونچا
مانا کہ تن تنہا ہے کھڑا میدان میں لیکن شان ہے یہ
اس شیر کے آگے جو آیا وہ اپنے ٹھکانے جاپہونچا
کربل کے رتیلے میداں میں خود اپنے لہو کی دھاروں سے
تقدیر کا مالک امت کی تقدیر بنانے جاپہونچا
ہوشہپر جبرائیلی پریادوشِ نبی یا نیزے پر
سراونچا رہے گا اونچا ہی یہ راز بتانے جاپہونچا
کوثر کے کنارے حوروں کے جھرمٹ میں ہے ننھا سا کوئی
معصوم مجاہد جنت میں کیا پیاس بجھانے جاپہونچا
ہم شکل پیمبر وہ دیکھو انوار کے جھرمٹ میں نکلا
ذروں کو بھی رشک مہرجہاں افروز بنانے جاپہونچا
وہ قصر جہاں وہ دین پلا اسلام ہے جس کا نام اخؔتر
یہ ابن زیاد اللہ اللہ اس قصر کو ڈھانے جاپہونچا