جمعہ , 11 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 30 January,2026


رخ پہ سبھوں کے ایک مسرت سی چھاگئی





رخ پہ سبھوں کے ایک مسرت سی چھاگئی
چپکے سے کیا نسیم گلوں سے بتاگئی
جب مشکلوں نے میرا تعاقب کیا کبھی
میری نگاہ جانب مشکل کشاگئی
بزم بتاں میں کیسی یہ سرگوشیاں ہیں آج
ماہ رجب کی تیرہویں تاریخ آگئی
محروم آرزو میں رہوں یہ محال ہے
ٹکرا جو ان کے در سےمری التجا آگئی
میرے کریم کی جو نگاہ کرم اٹھی
اپنے تو اپنے غیر کی بگڑی بناگئی
آنکھوں سے بے حجاب ہے تقدیر کائنات
کس طرح میں کہوں کہ انھیں نیند آگئی