روشن ہے دو عالم میں مہ روئے محمدکونین ہے عکس رخ نیکوئے محمد تاباں ہے ہر اک شے میں رخ پاک کا جلوہہر گل سے چلی آتی ہےخوشبوئے محمد ظاہر یہ ہوا آیہ اللہ رمیٰ سےہے قوت حق طاقت بازوئے محمد جب نائب و محبوب خدا آپ ہی ٹھہرےپھر کیوں نہ ہو ہر چیز پہ قابوئے محمد کعبے کی طرف کوئی نہ سر اپنا جھکا تاجھکتا نہ اگر وہ سوئے ابروئے محمد مخلوق ہے جو یائے رضا مندی خالقاللہ تعالیٰ ہے رضا جوئے محمد دیتی ہے دعاؤں سے تو ایذاؤں کا بدلہ کیا خوب ہے عادت تری اے خوئے محمد جب حشر میں کوئی بھی کرے گا نہ سفارش گھبرائے ہوئے آئیں گے سب سوئے محمد سب منتظرِ رحمت معبود ہیں لیکنہے داور محشر کی نظر سوئے محمد ان پر نہ پڑیں کس لیے عالم کی نگاہیںہے داور محشر کی نظر سوئے محمد برسے گی شفاعت کی بھرن امت شہ پرجس وقت کھلے حشر میں گیسوئے محمد مرجاؤں مدینے کے بیاباں میں الہٰیہونعش مری اور سگ کوئے محمد تاریکی مرقد سے جو گھبرائ۔۔۔
مزید
ہر شے میں ہے نور رُخ تابان محمدہر پھول میں خوشبوئے گلستان محمد اللہ ے محبوب کو بے مثل بنایاممکن ہی نہیں ہو کوئی ہم شان محمد مخلوق کو معلوم ہوکیا ان کی حقیقترب عزول جانتا ہے شان محمد آسکتا ہے کب ہم سے گنواروں کو ادب وہجیسا کہ ادب کرتے تھے یاران محمد سینہ ہے وہی جس میں نبی کی ہو محبتہے آنکھ وہی جو کہ ہے جویان محمد وہ دل ہی نہیں جو نہ جھکے سوئے مدینہوہ سر ہی نہیں جو نہ ہو قربان محمد اعدا کی شقاوت کہ ہوئے آپ کے منکراور سنگ وشجر تابع فرمان محمد محبوب خدا حاکم مخلوق الہٰی مخلوق خدا تابع فرمان محمد تفسیر نے لَوْلَاکَ لَمَا کی یہ پکاراوہ کون ہے جس پر نہیں احسان محمد رہتا ہے فلک جس جس کے طوافوں میں شب و روزواللہ وہ ہے گنبد ایوان محمد عشاق سمجھتے ہیں اسے گلشن جنتکہتے ہیں جسے لوگ بیابان محمد چلتا ہے جوزا ئر تو یہ کہتے ہیں فرشتے دیکھو وہ چلا آتا ہے مہمان محمد شیروں پہ شرف رکھتے ہیں دربار۔۔۔
مزید
آنکھوں کا تارا نام محمددل کا اجالا نام محمد اللہ اکبر رب العلا نےہر شے پہ لکھا نام محمد ہیں یوں تو کثرت سے نام لیکنسب سے ہے پیارا نام محمد دولت جو چاہو دونوں جہاں کیکرلو وظیفہ نام محمد شیدا نہ کیوں ہوں اُس پر مسلماں رب کو ہے پیارا نام محمد اللہ والا دم میں بنا دےاللہ والا نام محمد صل علیٰ کا سہرہ سِجا کردولھا بنا یا نام محمد نوح و خلیل و موسیٰ و عیسیٰسب کا ہے آقا نام محمد سارے چمن میں لاکھوں گلوں میں گل ہے ہزارا نام محمد پائیں مرادیں دونوں جہاں میںجس نے پکارا نام محمد مومن کو کیوں ہو خطرہ کہیں پردل پر ہے کندہ نام محمد رکھو لحد میں جس دم عزیزو مجھ کو سنا نا نامِ محمد پڑھتی درودیں دوڑیں گی حوریںلاشہ جو لےگا نام محمد روز قیامت میزان و پل پردے گا سہارا نام محمد پوچھے گا مولیٰ لایا ہے کیا کیامیں یہ کہوں گا نام محمد غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پرکردے اشارہ نام محمد رنج و الم می۔۔۔
مزید
دل کہتا ہے ہر وقت صفت ان کی لکھا کرکہتی ہے زباں نعمت محمد کی پڑھا کر اس محفل میلاد میں اے بندۂ سرکارجب آکے درود اس شہ عالم پہ پڑھا کر خالی کبھی پھیرا ہی نہیں اپنے گدا کواے سائلو مانگو تو ذرا ہاتھ اٹھا کر خود اپنے بھکاری کی بھرا کرتے ہیں جھولیخود کہتے ہیں یا رب مرے منگتا کا بھلا کر اعدا سے جفا پر ہو جفا اور یہ دعا دیںیارب انہیں ایمان کی تو آنکھ عطا کر کفار بداطوار سے پڑھواتے ہیں کلمہ اک چاشنی لذت دیدار چکھا کر اے ابر کرم بارش رحمت تری ہوجائےہوجائیں گنہگار ابھی پاک نہاکر کیا دور ہے سرکار مدینہ کے کرم سےتھوڑی سی جگہ دیں ہمیں طیبہ میں بلا کر گر ہند میں مرتا ہے کوئی عاشق صادق لے جاتے ہیں طیبہ میں ملک اس کو اٹھا کر بہکاتا ہے یوں نفس کہ گھر چھوڑ نہ اپناایمان یہ کہتا ہے مدینہ میں رہا کر جو خلد نہ چاہیں گے مدینے کے عوض میں لے جائیں گے رضواں انہیں جنت میں مناکر ہوگا نہ اثر ہم پہ کہ ہم۔۔۔
مزید
اس کو کب ہوگل و گلزار عزیزہیں مدینے کے جسے خار عزیز ہوچمن تجھ کو مبارک بلبلمجھ کو طیبہ کا ہے گلزار عزیز اے طبیو نہ کرو میرا علاجمجھ کو ہے عشق کا آزاد عزیز باربار آتے تھے سدرہ سے امیںکہ ہے ان کو در سرکار عزیز کیسی تقدیر کہ اللہ کو ہےامت احمد مختار عزیز نیچری رافضی و وہابیسنیوں کو نہیں زنہار عزیز یہ ہیں سب دشمن اللہ و رسولکیسے رکھے انہیں دیندار عزیز اہلسنت کو ہے جنت مرغوباور بدمذہبوں کو نار عزیز حور کیا دیکھوں جمیل رضویمجھ کو ہے شاہ کا دیدار عزیز قبالۂ بخشش ۔۔۔
مزید
مجھ کو پہنچا دے خدا احمد مختار کے پاسحال دل عرض کروں سید ابرار کے پاس جس کو دیکھو وہ اسی در پہ چلا آتا ہےبھیڑ ہے شاہ و گدا کی در سرکار کے پاس بے طلب جس کو جو چاہیں وہ عطا کرتے ہیں سب خزانے ہیں مرے مالک و مختار کے پاس دولت و فضل و کرم نعمت و جاہ و اقبالکون سی چیز نہیں ہے مرے سرکار کے پاس بادشاہان جہاں دست نگر ہیں ان کےہاتھ پھیلائے کھڑے رہتے ہیں دربار کے پاس یہ محبت ہے کہ آواز اغثنی سن کردوڑے آتے ہیں وہ ہر ایک گرفتار کے پاس دل پہ کندہ ہے ترا اسم گرامی شابازہدو طاعت سے نہیں کچھ بھی گنہگار کے پاس یا خدا حشر ہے یا عید ہے مشتاقوں کیکہ چلے آتے ہیں وہ طالب دیدار کے پاس یارسول عربی میری شفاعت کرنا پیش اعمال ہوں جب واحد قہار کے پاس دیکھ کر روضۂ پرنور کو ایسا تڑپوںدن نکل جائے مرا آپ کی دیوار کے پاس ہے شہید ی کی طرح عرض جمیل رضویمیری تربت بھی بنے آپ کی دیوار کے پاس قبالۂ بخشش ۔۔۔
مزید
ہے یہ جو کچھ بھی جہاں کی رونق یا نبی سب ہے تمہاری رونق عرش و کرسی ہے تمہیں سے روشنفرش پر بھی ہے تمہاری رونق دیکھیں طیبہ کو تو رضواں کہہ دیںہم نے دیکھی نہیں ایسی رونق خلد و افلاک مزین ہیں سبھیپر ہے طیبہ کی نرالی رونق مسکرا دیجئے یا شاہ کہ ہودو جہاں میں ابھی دونی رونق حورو غلماں ملک و جن و بشرہے یہ سب آپ کے دم کی رونق تم نہیں تھے تو نہیں تھا کچھ بھیتم نہ ہوتے تو نہ ہوتی رونق میں ہوں محبوب خدا کا مداحمیری تربت پہ بھی رونق ایک دن چل کے جمیل رضویدیکھیے ان کی گلی کی رونق قبالۂ بخشش ۔۔۔
مزید
شکر تیرا ہوسکے کس طرح رحمٰن رسولمجھ سے عاصی تو کیا تونے ثناخوانِ رسول یا الہٰی عشق مولیٰ میں مجھے ایسا گما تا ابد نکلے نہ میرے دل سے ارمان رسول امر ان کا امر رب ہی نہی اُن کی نہی ربوہ ہے فرمان الہٰی جو ہے فرمان رسول دو جہاں میں آفتاب ہاشمی کی ہے ضیاآئینہ ہیں دہر و عالم پیش چشمان رسول ہیں ملک روضے پہ حاضر داب شاہی کےلیےورنہ خود مولیٰ تعالیٰ ہے نگہبان رسول بھول جائے با غ و گل کو چھوڑ دے سیرچمنعندلیب زار گر دیکھے بیابان رسول ان کے در سے بھیک پاتے ہیں سلاطین جہاںبادشاہان زمانہ ہیں گدایان رسول ایک ہم ہیں جو فراق و ہجر میں تڑپا کریںایک وہ ہیں جو بنے قسمت سے دربان رسول چل دیے جو روضۂ شہ کی زیارت کےلیےہوگئے گھر سے نکلتے ہی وہ مہمان رسول ہے بیابان مدینہ جان اہل خلد کیآبروئے جنت الماوٰی گلستان رسول سوف یعطیک فترضی مہرہے اس بات پرخلد میں بے شبہ جائیں گے گدایان رسول اس طرح آئیں گے ان کے ۔۔۔
مزید
دل میں ہو میرے جائے محمدﷺسر میں رہے سودائے محمدﷺ فرش کی زینت رونق جنت باعث خلقت مظہرِوحدتعرش کی عزت پائے محمدﷺ طور پہ پہنچے حضرت موسیٰ چوتھے فلک پر حضرت عیسیٰعرشِ معلیٰ جائے محمد ﷺ قبلۂ کعبہ روضۂ والا عرش سے اعلیٰ قبر معلیٰجان و جناں صحرائے محمدﷺ جن و ملائک حور و غلماں سب ہیں نام پر انکے قرباںکون نہیں جو یائے محمد ﷺ حق نے انہیں بیمثل بنایا پڑتا زمیں پر کیوں کر سایہنور خدا عضائے محمدﷺ جب کہ فرشتے قبر میں آئیں ذکر سوال کا لب پر لائیںمیں یہ کہوں شیدائے محمدﷺ نزع میں تھا بیمار محبت یاد جو آئی ان کی صورتبرسربالیں آئے محمد ﷺ تاج فترضیٰ سر پر رکھ کر حق نے کہا کہ بروز محشرچاہے جسے بخشائے محمدﷺ قبر سے جس دم سر کو اٹھاؤں ساری مرادیں دل کی پاؤںدیکھوں رخِ زیبائے محمد ﷺ اہل معاصی پائیں خلاصی دفتر بددھو ڈالیں عاصیجوش پہ ہے دریائے محمدﷺ جب گھبرائیں گے عاصی ڈر کر رحمت حق یہ کہے گی بڑھ کرچین۔۔۔
مزید
جاکے صبا تو کوئے محمد ﷺلاکے سنگھا خوشبوئے محمدﷺ چاک ہے ہجر سے اپنا سینہ دل میں بسا ہو شہر مدینہچشم لگی ہے سوئے محمدﷺ حشر کا خوف ہے سب پر غالب سب ہیں رضائے حق کے طالبحق کی نظر ہے سوئے محمدﷺ تشنہ دہان و غم ہے تمہیں کیا ابر کرم اب جھوم کے برسالو وہ کھلے گیسوئے محمد ﷺ رنگ ہے ان کا باغ جہاں میں ان کی مہک ہے خلد و جناں میںسب میں بسی خوشبوئے محمد ﷺ شمس و قمر ہیں ارض و فلک میں جن و بشر میں حورو ملک میںعکس فگن ہے روئے محمد ﷺ مشک و گلاب و عودو عنبر خاک میں ڈالوں سب کے اوپرپاؤں اگر خوشبوئے محمد ﷺ ہونہ کبھی تا حشر نمایاں ایسا ہلالِ عید ہو قرباںدیکھے اگر ابرو ئے محمد ﷺ سیف خدا پر جنگ ہو آساں ہو غزوات میں فتح نمایاں اے تری شوکت موئے محمدﷺ دین کے دشمن ان کو ستائیں دیں یہ ہمیشہ ان کو دعائیںسب سے نرالی خوئے محمدﷺ ہو نہ جمیل قادری مضطر ہاتھ اٹھاکر حق سے دعا کرمجھ کو دکھا دے کوئے محمد ﷺ قبالۂ۔۔۔
مزید
حق کے محبوب کی ہم مدح و ثنا کرتے ہیںاپنے اس آئینہ دل کی جلا کرتے ہیں راہ میں اُن کی جوزر اپنا فدا کرتے ہیںگویا فردوس بریں مول لیا کرتے ہیں جو شب و روز ترا نام جپا کرتے ہیںتیرکب ان کی دعاؤں کے خطا کرتے ہیں ہم وہ بندے ہیں کہ دن رات خطا کرتے ہیںیہ وہ آقا ہیں کہ سب بخش دیا کرتے ہیں وہی پاتے ہیں بہت جلد مقاصد دل کےتیری ہی سمت جو منہ کرکے دعا کرتے ہیں کردیا اپنے خزانوں کا خدا نے مالکبے طلب جس کو جو چاہیں وہ عطا کرتے ہیں میں تری دین کے قربان کہ تیرے منگتاتجھ سے جو چاہتے ہیں مانگ لیا کرتے ہیں مرحمت ہو نہ انہیں کس لیے عمر جاویدجو قضاؤں کو ترے درپہ ادا کرتے ہیں سننا فریاد غریبوں کو جلانا مردےآپ کے در کے گداؤں کے گدا کرتے ہیں خلد دیدینا فقیروں کو غنی کردیناآپ کے در کے گداؤں کے گدا کرتے ہیں ان کی گردش پہ مہ و مہر فدا ہوتے ہیںتیرے کوچہ میں جو دن رات پھرا کرتے ہیں بے زباں طائر وحشی بھی ال۔۔۔
مزید
اے شکیب جان مضطر رحمۃ للعا لمینرحم گستر بندہ پردر رحمۃ للعا لمین ایک نورت ماہ پر و ر رحمۃ للعا لمینبردرِ تو مہر چا کر رحمۃ للعا لمین من رانی قدرأ الحق سب فرمان شماکاش بینم روئے انور رحمۃ للعا لمین از سموم رنج و غم در دوالم من سوختمشد دل من مثل اخبر رحمۃ للعا لمین قطرۂزاب کرم کا افیت یک قطرہ بدہچوں دلے دارم چو مجمر رحمۃ للعا لمین تیرۂ و تارست شامِ ماغریباں صبح کنآفتاب ذرہ پر ور رحمۃ للعا لمین گرجمال احمدی خواہی در اصحابش ببیںآں چناں کا نوار حق در رحمۃ اللعا لمین اوست گر رب جہاں اینست رحمت خلق رارحمت و صلوٰتِ حق بر رحمۃ للعا لمین چوں بر آرم سرزگور خود ببینم روئے ادچشم بادا یا خدا بر رحمۃ للعا لمین دامن احمد رضا خاں داد در دست فقیرجان مابادافدا بر رحمۃ للعا لمین من جمیل مضطر بردرگہِ تو حاضرمرحم کن برحال مضطر رحمۃ للعا لمین قبالۂ بخشش ۔۔۔
مزید