ہفتہ , 12 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 31 January,2026


مست مئے الست





مست مئے الست ہے وہ بادشاہِ وقت ہے

بندۂ در جو ہے ترا وہ بے نیازِ تخت ہے

 

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

ان کی گدائی کے طفیل ہم کو ملی سکندری

 

رنگ یہ لائی بندگی اوج پہ اپنا بخت ہے

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

 

گردشِ دور یانبی ویران دل کو کر گئی

تاب نہ مجھ میں اب رہی دل مرا لخت لخت ہے

 

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

غنچۂ دل کھلائیے جلوۂ رخ دکھائیے

 

جام نظر پلائیے تشنگی مجھ کو سخت ہے

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

 

اخترِؔ خستہ طیبہ کو سب چلے تم بھی اب چلو

جذب سے دل کے کام لو اٹھو کہ وقتِ رفت ہے

 

صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ

٭…٭…٭