جمعہ , 10 شعبان 1447 ہجری
/ Friday, 30 January,2026


کوئے طیبہ کی یاد جب آئے





کوئے طیبہ کی یاد جب آئے
کیوں نہ پہلو میں دل تڑپ جائے
انکے ہونٹوں پہ گر ہنستی آئے
چاند کی چاندنی بھی شرمائے
تیرے منگتا اے کملیا والے
ہیں تیرے در پہ ہاتھ پھیلائے
اس کو اپنی خبر؟ معاذ اللہ
نگۂ ناز جس پہ پڑجائے
دست رحمت کو یہ گوارہ کہاں
خالی چوکھٹ سے کوئی پھر جائے
نوک غمزہ پہ کچھ ستارے ہیں
ان کی فرقت کے یہ ہیں سرمائے
دل میں وہ آنکھ کے دریچوں سے
مسکراتے ہوئے اتر آئے
آج پھرتے ہیں ان کے دیوانے
تخت و تاج شہی کو ٹھکرائے
کیا کریں ہم فراق کے مارے
جب مدینے کی یاد تڑپائے
دیکھ کر سبز جالیوں کا سماں
گلشن خلد کیوں نہ للچائے
وہ محمدﷺ کا آستانہ ہے
خود بخود سر جہاں پہ جھک جائے
رہ کے طیبہ سے دور جو گزرے
ہم تو اس زندگی سے باز آئے
بول اٹھیں انکی رحمتیں اخؔتر
ہر مصیبت زدہ ادھر آئے