جمعہ , 10 شعبان 1447 ہجری
/ Friday, 30 January,2026


ہو میری آنکھ سوئے پیمبر لگی ہوئی





فرقت کی آگ ہے مرے دل پر لگی ہوئی
کیوں کر دکھاؤں تمہیں، اندر لگی ہوئی


تم کو عطا ہوئے ہیں علومِ ازل ابد
تم جانتے ہو کیا ہے اور کیوں کر لگی ہوئی


کوئی چلے بہشت میں، دوزخ میں کوئی جائے
ہو میری آنکھ سوئے پیمبر لگی ہوئی


فرماتے ہونگے امّتِ عاصی سے بار بار
’’دوڑو سبیل ہے، لبِ کوثر لگی ہوئی‘‘


اے دل اگر زیارتِ احمدﷺ نصیب ہو
بُجھ جائے پھر تو سینے کے اندر لگی ہوئی


پیارے تری عُلُوِّ مراتب کی تیز دھار
برچھی وہابیوں کے جگر پر لگی ہوئی


بُرہانؔ تھام دامنِ احمد رضا کو تُو
ہے اس کی ڈور سوئے پیمبر لگی ہوئی