جمعہ , 11 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 30 January,2026


ایک تاریخی شعر






ایک تاریخی شعر

 

مدینے کا مسافر ہند سے پہنچا مدینے میں
قدم رکھنے کی نوبت بھی نہ آئی تھی سفینے میں[1]



[1]           صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی علیہ الرحمہ سفرِحج کی نیّت سے اپنے دولت خانے سے نکل چکے تھے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ مقدّس قافلہ بمبئی (ممبئی) پہنچاتا کہ وہاں سے سمندری جہاز کے ذریعےحرمین شریفین تک رسائی ممکن ہو ۔ اس مقدّس سفر پر جانے والے عشاقانِ مدینہ کو الوداع کہنے کے لیے حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ بھی ممبئی میں موجود تھے۔

ساری تیاری مکمل تھی کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی حالت بگڑنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی روح پرواز کر گئی۔ قائد اہل سنت (علامہ ارشدالقادی) علیہ الرحمہ نے اسی تاریخی موقع پر فی البدیہہ یہ شعر کہا تھا۔

مرتّب (ڈاکٹر غلام زرقانی)